Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1124

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ » . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن سلامة بنت الحر قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن من أشراط الساعة أن يتدافع أهل المسجد لا يجدون إماما يصلي بهم » . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلامہ بنت حر سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ علامات قیامت سے یہ ہے کہ مسجد والے ایک دوسرے پر ٹالیں کوئی امام نہ پائیں جو انہیں نماز پڑھائے ۲؎(احمد،ابوداؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابیہ ہیں،قبیلہ بنی ازدسے یا بنی اسد سے،ان کی حدیثیں کوفہ میں زیادہ مشہور ہوئیں۔
۲
؎یعنی مسلمان مسجد میں جمع ہوں اور ہر ایک دوسرے سے کہے کہ تو نماز پڑھا۔مقصد یہ ہے کہ قریب قیامت جہالت ایسی عام ہوجائے گی کہ مسلمانوں کے مجمعوں میں کوئی امامت کے قابل نہ ملے گا،بعض دفعہ لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھ کر چلے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلفًا امامت کو ٹالنا بھی ممنوع ہے۔ مرقاۃ نے یہاں فرمایا اس حدیث کی بناء پر علماء نے امامت،تعلیم قرآن و غیرہ عبادتوں پر اجرت جائز کی تاکہ مسجدیں ویران نہ ہوجائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1124