Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1125

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٌ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلیٰ كُلِّ مُسْلِمٌ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا كان أو فاجرا وإن عمل الكبائر. والصلاة واجبة عليكم خلف كل مسلم برا كان أو فاجرا وإن عمل الكبائر. والصلاة واجبة علی كل مسلم برا كان أو فاجرا وإن عمل الكبائر».رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جہاد تم پر واجب ہے ہر امیر کے ساتھ نیک ہو بَد ۱؎اگرچہ گناہ کبیرہ کرے اور ہر مسلمان کے پیچھے تم پر نماز واجب ہے نیک ہو یا بد اگرچہ گناہ کبیرہ کرے ۲؎اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے نیک ہو یا بد اگر چہ گناہ کبیرہ کرے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے امیر شرط ہے لیکن امیر کے لیے قریشی یا متقی ہونا شرط نہیں،ہر مسلمان امیر کے ماتحت جہاد جائز ہے یعنی اگرفاسق و فاجر امیر بن گیا ہو تو اس کے ساتھ جہاد کرو،ہاں فاسق کو امام بنانا منع ہے،دیکھو امام حسین رضی الله عنہ نے یزید کو امام نہ بنایا جان دے دی لہذا ان کا وہ عمل اس حدیث کے خلاف نہیں ۔
۲
؎فقہاء فرماتے ہیں کہ فاسق کو امام بنانا منع لیکن اگر وہ امام بن چکا ہو تو اس کے پیچھے نماز جائز،اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ خیال رہے کہ یہاں فاسق سے مراد بدعمل ہے نہ کہ بدمذہب لہذا قادیانی ،چکڑالوی،شیعہ امام کے پیچھے ہرگز نماز جائز نہیں، نیز اگر فاسق نماز میں کوئی ایسی بدعملی کررہا ہے جس سے خود اس کی نماز مکروہ تحریمی ہورہی ہے اس کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں،جیسے کوئی سونا یا ریشم پہن کر یا داڑھی منڈائے،نیکر پہنے،گھٹنا کھولے نماز پڑھائے کیونکہ جو نماز مکروہ تحریمی فعل کے ساتھ ادا کی جائے اس کا لوٹانا واجب۔یہاں حدیث میں فاسق سے مراد وہ ہے جو نماز میں فسق نہ کر رہا ہو جیسے جھوٹا یا غیبت کرنے والا آدمی کہ وہ یہ جرم نماز میں نہیں کرتا ۔
۳
؎یعنی مسلمان میت کیسا ہی گنہگار ہو اس کا جنازہ ضرور پڑھا جائے گا۔خیال رہے کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مقروض میت کا جنازہ نہ پڑھا تاکہ لوگ قرض سے بچیں مگر صحابہ سے پڑھوادیا، آپ کا وہ عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ چار شخصوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے: ڈاکو جو مقابلے میں مارا جائے ،ماں بآپ کا قاتل جب کہ قصاص میں مارا جائے،خناق یعنی خفیہ طور پر لوگوں کا گلا گھونٹ کر مار دینے والا،باغی جو جنگ میں مارا جائے۔(درمختار) اس مسئلے کا ماخذ حضرت علی مرتضیٰ رضی الله عنہ کا عمل شریف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1125