Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1122

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتّٰى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"ثلاثة لا تجاوز صلاتهم آذانهم: العبد الآبق حتى يرجع وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط وإمام قوم وهم له كارهون ".رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی ۱؎بھاگا ہوا غلام حتی کہ لوٹ آئے اور وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند ناراض ہو۲؎اور قوم کا امام کہ قوم اسے ناپسند کرے۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قبولیت تو کیا بارگاہ ِ الٰہی میں پیش بھی نہیں ہوتی جیسے دوسری نیکیاں پیش ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ"۔چونکہ کان انسان کا سب سے قریب عضو ہے کہ اس سے ہی تلاوت کی آواز سنی جاتی ہے اس لیے اس کا ذکر ہوا۔
۲
؎عورت کی بدخُلقی اور نافرمانی کی وجہ سے اور اگر بلاوجہ ناراض ہے تو عورت کا کوئی نقصان نہیں اور اگر ظلم مرد کی طرف سے ہے تو حکم برعکس ہوگا یعنی بغیرعورت کو راضی کئے مرد کی نماز قبول نہ ہوگی۔(لمعات مرقاۃ)
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں امام سے مراد نماز کا امام ہے اور ناپسندیدگی سے مراد امام کی جہالت یا بدعملی یا بدمذہبی کی وجہ سے ناراضی ہے ۔اگر لوگ دنیاوی وجہ سے ناراض ہوں تو اس کا اعتبار نہیں بلکہ اس صورت میں وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔خیال رہے کہ ناراضی میں اکثر کا اعتبار ہے دو چار آدمی تو ہر ایک سے ناراض ہوتے ہی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1122