Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1997

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: "هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ فإن فِيْ السُحُوْرِ بَرَكَةٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن العرباض بن سارية قال: دعاني رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- إلى السحور في رمضان، فقال: "هلم إلى الغداء المبارك فإن في السحور بركة". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے فرماتے ہیں مجھے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کے لیے بلایا ۱؎تو فرمایا برکت والے ناشتہ کے لیے آؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضرت عرباض سحری کے وقت خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہوں گے تو فرمایا آؤ سحری کھالو انہیں باقاعدہ دعوت دے کر گھر سے نہ بلایا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ کھاتے وقت اگر کوئی مسلمان آجائے تو اس پر کھانا پیش کردینا سنت ہے۔
۲
؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ سحری کھانا سنت بھی ہے لہذا اس میں اخروی برکت ہے اور اس سے روزے میں مدد بھی ملتی ہے لہذا اس میں دنیوی برکت بھی ہے۔خیال رہے کہھَلُمَّاسم فعل ہے ایک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت کے لیے بھی، رب تعالٰی نے سارے مشرکوں سے فرمایا:"ھَلُمَّ َ شُہَدَآءَکُمُ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1997