Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1990

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: "فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ" غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى

وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة، فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي. ولم يذكر: "فإنه بركة" غير الترمذي في رواية أخرى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی روزہ افطارکرنے لگے تو چھوارے پر افطارے کہ یہ برکت ہے ۱؎پھر اگر چھوارہ نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کہ یہ پاک کرنے والا ہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اورانہ برکۃکا لفظ ترمذی کے سواءکسی نے روایت نہ کیا۔(اپنی دوسری روایت میں)

شرح حدیث

۱∞؎چھوارے سے روزہ افطارنا چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے صحابہ کرام کی سنت ہے،نیز خالی پیٹ میٹھی چیز کھانا تندرستی خصوصًانظر کے لیے بہت مفید ہے اس لیے یہ عمل دینی و دنیاوی برکتوں کا ذریعہ ہے کھجور محبوب بندوں کی غذا ہے۔
۲
؎یعنی پانی جیسے جسم کو پاک کرنے والا ہے ایسے ہی دل و دماغ کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے،نیز پانی میں حرام ہونے کا احتمال بہت کم ہوتا ہے کہ کنوئیں کا پانی جنگل کا شکار اصل میں مباح ہے دوسری چیزوں میں احتمال ہے کہ حرام کمائی سے حاصل کی گئی ہوں روزہ حلال سے افطارکرنا بہتر ہے یہ امر استحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1990