- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 1986
باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1986
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلی اللہ عليه وسلم عن الوصال في الصوم، فقال له رجل: إنك تواصل يا رسول الله؟ قال: "وأيكم مثلي؟ إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں وصال کرنے سے منع فرمایا ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے عرض کیا یارسول اللہ آپ تو وصال کرتے ہیں ۲؎فرمایا تم میں مجھ جیسا کون ہے ۳؎میں اس طرح رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎روزہ کا وصال یہ ہے کہ شب کو بغیر افطار کئے،بغیر کچھ کھائے پئے دوسرا روزہ رکھ لیا جائے۔حق یہ ہے کہ یہ وصال ہمارے لیے مکروہ تحریمی ہے اور یہاں ممانعت حرمت کی ہےاس ممانعت میں صدہا حکمتیں ہیں:وصال سے جسم بہت کمزور ہوجاتا ہے،وصال سے دوسری عبادتیں بھاری پڑ جاتی ہیں،وصال میں جوگیوں،سادھوؤں کی مشابہت ہے وصال ساری امت کے لیے ناجائز ہے خواہ اولیاءہو ں یا دیگر طبقہ کے لوگ۔
۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک دن کا نہیں بلکہ متواتر کئی کئی روز کا وصال فرماتے تھے کہ مسلسل روزے پر روزے رکھتے تھے اس لیے سائل کو شبہ ہوا کہ وصال تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونا چاہیےمنع کیوں ہے۔
۳؎یہ استفہام انکاری ہے اوراَیُّکُممیں صحابہ اور تمام انسانوں سے خطاب ہے یعنی تم میں مجھ جیسا کوئی نہیں،جب صحابہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہ ہوسکے اورکسی کا کیا منہ ہے جو ان سے ہمسری کا دعوے کرے،ہمارا عقیدہ تو یہ ہے۔شعر
نسبت خود بسگت کردم و بس منفعلم زاں کہ نسبت بسگ کوئے تو شدبے ادبی است
رب تعالٰی کے فرمان:"قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ"میں خالص بشریت میں تشبیہ ہے جس میں الوہیت کا خلط نہ ہو یعنی میں تمہاری طرح خالص بشر ہوں نہ خدا نہ خدا کا ساجھی،پھر میری بشریت سے نبوت کا خلط ہوا جسےیُوحیٰ اِلَیَّنے بیان کیا لہذا یہ حدیث قرآن کی اس آیت کے خلاف نہیں،تمام جہان کے اولیاء ایک صحابی کی مثل نہیں ہوسکتے جس نے ایمانی نگاہ سے ان کا چہرہ ایک آن دیکھا ان کی ذات تو بہت اعلیٰ ہے۔
۴؎علماء نے اس کھلانے پلانے کی بہت توجیہیں کی ہیں:بعض نے کہا کہ اس سے قوت برداشت مراد ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے روحانی غذائیں مراد ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے معنوی فیضان اور مناجات کی لذتیں مراد ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے بھوک پیاس کا نہ ہونا مراد ہے وغیرہ مگر حضرت عشق کا فتوی یہ ہے کہ حدیث اپنے بالکل ظاہری معنے پر ہے اور اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی کی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا:ایک یہ کہ تم سب اپنے بیوی بچوں کے پاس رات گزارتے ہو اور میں اپنے رب کے پاس۔ شعر
فرشی و براوج عرش منزل امی و کتاب خانہ در دل
امی و دقیقہ دان عالم بے سایہ و سائبان عالم
دوسرے یہ کہ میں رب تعالٰی کے پاس رہ کر خود نہیں کھاتا پیتا بلکہ مجھے رب تعالٰی کھلاتا پلاتا ہے کھلانے والا اس کا دست کرم کھانا والا میں۔تیسرے یہ کہ رب تعالٰی مجھے وہ روزی کھلاتا پلاتا ہے جس سے نہ روزہ ٹوٹے نہ روزوں کا تسلسل جائے یعنی جنت کے میوے اور سلسبیل تسنیم وغیرہ کے شربت۔اس جملہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہیں ہوسکتا جب انسان کو ناطق کی قید نے تمام حیوانیات سے ذاتی امتیاز دے دیا تو نبوت اور وحی کی صفتوں نے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں سے ذاتی ممتاز کردیا۔(۲)دوسرے یہ کہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہ نیت عبادت کھانا پینا چھوڑیں تو خواہ ہفتوں نہ کھائیں ضعف و کمزوری بالکل طاری نہ ہوگی اور اگر بطور عادت کھانا ملاحظہ نہ کریں تو ضعف بھی نمودار ہوگا اور شکم پاک پر پتھربھی باندھے جائیں گے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نوربھی ہیں اور بشر بھی،عبادت میں نورانیت کا ظہور ہے اور عادت میں بشریت کی جلوہ گری لہذا یہ حدیث حضرت جابر کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کھانا نہ کھانے پر دو پتھر پیٹ سے باندھے۔(۳)تیسرے یہ کہ جنتی میوے کھانے اور وہاں کا پانی پینے سے روزہ نہیں جاتا جیسے رب تعالٰی سے کلام کرنے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے سے نماز نہیں جاتی۔بعض اولیاء خواب میں کھا پی لیتے ہیں کہ کھانے کی خوشبو بیداری کے بعد ان کے منہ میں پائی جاتی ہے مگر ان کا روزہ قائم رہتا ہے،دیکھو احتلام سے ہمارا روزہ نہیں جاتا۔(۴)چوتھے یہ کہ بعض بندوں کو اسی زندگی میں جنتی میوے ملتے ہیں،حضرت مریم علیہا السلام کا جنتی میوے کھانا قرآن پاک سے ثابت ہے۔(۵)پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام ہمارے لیے سنت نہیں بلکہ وہ کام سنت ہے جو ہمارے لیے لائق عمل ہوخصوصیات مصطفوی ہمارے لیے سنت نہیں۔روزۂ وصال،نو بیویاں نکاح میں جمع فرمانا ہمارے لیے نہ سنت ہیں نہ لائق عمل سنت و حدیث میں یہی فرق ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1986