Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1986

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلی اللہ عليه وسلم عن الوصال في الصوم، فقال له رجل: إنك تواصل يا رسول الله؟ قال: "وأيكم مثلي؟ إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں وصال کرنے سے منع فرمایا ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے عرض کیا یارسول اللہ آپ تو وصال کرتے ہیں ۲؎فرمایا تم میں مجھ جیسا کون ہے ۳؎میں اس طرح رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎روزہ کا وصال یہ ہے کہ شب کو بغیر افطار کئے،بغیر کچھ کھائے پئے دوسرا روزہ رکھ لیا جائے۔حق یہ ہے کہ یہ وصال ہمارے لیے مکروہ تحریمی ہے اور یہاں ممانعت حرمت کی ہےاس ممانعت میں صدہا حکمتیں ہیں:وصال سے جسم بہت کمزور ہوجاتا ہے،وصال سے دوسری عبادتیں بھاری پڑ جاتی ہیں،وصال میں جوگیوں،سادھوؤں کی مشابہت ہے وصال ساری امت کے لیے ناجائز ہے خواہ اولیاءہو ں یا دیگر طبقہ کے لوگ۔
۲
؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک دن کا نہیں بلکہ متواتر کئی کئی روز کا وصال فرماتے تھے کہ مسلسل روزے پر روزے رکھتے تھے اس لیے سائل کو شبہ ہوا کہ وصال تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونا چاہیےمنع کیوں ہے۔
۳
؎یہ استفہام انکاری ہے اوراَیُّکُممیں صحابہ اور تمام انسانوں سے خطاب ہے یعنی تم میں مجھ جیسا کوئی نہیں،جب صحابہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہ ہوسکے اورکسی کا کیا منہ ہے جو ان سے ہمسری کا دعوے کرے،ہمارا عقیدہ تو یہ ہے۔شعر
نسبت خود بسگت کردم و بس منفعلم زاں کہ نسبت بسگ کوئے تو شدبے ادبی است
رب تعالٰی کے فرمان:"
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ"میں خالص بشریت میں تشبیہ ہے جس میں الوہیت کا خلط نہ ہو یعنی میں تمہاری طرح خالص بشر ہوں نہ خدا نہ خدا کا ساجھی،پھر میری بشریت سے نبوت کا خلط ہوا جسےیُوحیٰ اِلَیَّنے بیان کیا لہذا یہ حدیث قرآن کی اس آیت کے خلاف نہیں،تمام جہان کے اولیاء ایک صحابی کی مثل نہیں ہوسکتے جس نے ایمانی نگاہ سے ان کا چہرہ ایک آن دیکھا ان کی ذات تو بہت اعلیٰ ہے۔
۴
؎علماء نے اس کھلانے پلانے کی بہت توجیہیں کی ہیں:بعض نے کہا کہ اس سے قوت برداشت مراد ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے روحانی غذائیں مراد ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے معنوی فیضان اور مناجات کی لذتیں مراد ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے بھوک پیاس کا نہ ہونا مراد ہے وغیرہ مگر حضرت عشق کا فتوی یہ ہے کہ حدیث اپنے بالکل ظاہری معنے پر ہے اور اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی کی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا:ایک یہ کہ تم سب اپنے بیوی بچوں کے پاس رات گزارتے ہو اور میں اپنے رب کے پاس۔ شعر
فرشی و براوج عرش منزل امی و کتاب خانہ در دل
امی و دقیقہ دان عالم بے سایہ و سائبان عالم
دوسرے یہ کہ میں رب تعالٰی کے پاس رہ کر خود نہیں کھاتا پیتا بلکہ مجھے رب تعالٰی کھلاتا پلاتا ہے کھلانے والا اس کا دست کرم کھانا والا میں۔تیسرے یہ کہ رب تعالٰی مجھے وہ روزی کھلاتا پلاتا ہے جس سے نہ روزہ ٹوٹے نہ روزوں کا تسلسل جائے یعنی جنت کے میوے اور سلسبیل تسنیم وغیرہ کے شربت۔اس جملہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہیں ہوسکتا جب انسان کو ناطق کی قید نے تمام حیوانیات سے ذاتی امتیاز دے دیا تو نبوت اور وحی کی صفتوں نے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں سے ذاتی ممتاز کردیا۔(۲)دوسرے یہ کہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہ نیت عبادت کھانا پینا چھوڑیں تو خواہ ہفتوں نہ کھائیں ضعف و کمزوری بالکل طاری نہ ہوگی اور اگر بطور عادت کھانا ملاحظہ نہ کریں تو ضعف بھی نمودار ہوگا اور شکم پاک پر پتھربھی باندھے جائیں گے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نوربھی ہیں اور بشر بھی،عبادت میں نورانیت کا ظہور ہے اور عادت میں بشریت کی جلوہ گری لہذا یہ حدیث حضرت جابر کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کھانا نہ کھانے پر دو پتھر پیٹ سے باندھے۔(۳)تیسرے یہ کہ جنتی میوے کھانے اور وہاں کا پانی پینے سے روزہ نہیں جاتا جیسے رب تعالٰی سے کلام کرنے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے سے نماز نہیں جاتی۔بعض اولیاء خواب میں کھا پی لیتے ہیں کہ کھانے کی خوشبو بیداری کے بعد ان کے منہ میں پائی جاتی ہے مگر ان کا روزہ قائم رہتا ہے،دیکھو احتلام سے ہمارا روزہ نہیں جاتا۔(۴)چوتھے یہ کہ بعض بندوں کو اسی زندگی میں جنتی میوے ملتے ہیں،حضرت مریم علیہا السلام کا جنتی میوے کھانا قرآن پاک سے ثابت ہے۔(۵)پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام ہمارے لیے سنت نہیں بلکہ وہ کام سنت ہے جو ہمارے لیے لائق عمل ہوخصوصیات مصطفوی ہمارے لیے سنت نہیں۔روزۂ وصال،نو بیویاں نکاح میں جمع فرمانا ہمارے لیے نہ سنت ہیں نہ لائق عمل سنت و حدیث میں یہی فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1986