Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1992

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"، وَمُحْيِي السُّنَّةِ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: صَحِيحٌ

وعن زيد بن خالد قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره". رواه البيهقي في "شعب الإيمان"، ومحيي السنة في "شرح السنة" وقال: صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید بن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو روزے دار کو افطار کرائے یا غازی کو سامان دے تو اسے ان ہی کی طرح ثواب ہے ۱؎(بیہقی شعب الایمان)محی السنہ نے شرح سنہ میں اسے روایت کیا اور فرمایا صحیح ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس لیے کہ روزہ دار کو افطار کرانے یا غازی کو سامان دینے میں نیکی پر مدد کرنا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"۔چونکہ روزہ دارنفس و شیطان سے جہادکرتا ہے اس لیے اسے غازی کے ساتھ ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ مل جائے گا مگر اس سے روزہ ادا نہ ہوگا وہ تو رکھنے سے ہی ادا ہوگا،ثواب مل جانا اور ہے فرض ادا ہونا کچھ اور۔
۲
؎یہ حدیث ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،ابن حبان وغیرہم محدثین نے نقل فرمائی،ترمذی نے اسے حسن صحیح فرمایا،شاید حضرت مصنف قدس سرہ ان اسنادوں پر مطلع نہ ہوئے اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1992