Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1994

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: "اللّٰهُمَّ لَكَ صَمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مُرْسَلًا.

وعن معاذ بن زهرة قال: إن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- كان إذا أفطر قال: "اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت ". رواه أبو داود مرسلا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن زہرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے الٰہی میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا ۱؎(ابوداؤد مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎افطار کے وقت یہ دعا مانگنا سنت ہے،مرقات نے فرمایا کہ اگر یہ بھی کہہ لےوَبِكَ اٰمَنْتُاگرچہ اس کلمہ کی کوئی اصل تو نہیں مگر درست ہے،بعض لوگ آخر میں یہ بھی کہہ لیتے ہیں"وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ"یہ کل کے روزے کی نیت ہے اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت حسنہ ہے،بعض لوگ افطار کے وقت یوں کہتے ہیں"اَللّٰھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ وَبِرِزْقِكَ اَفْطَرْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ"اس میں بھی حرج نہیں۔غرضکہ دعائیہ کلمات میں زیادتی جائز ہے،بعضاَلتَّحِیَّاتُمیں درود ابراہیمی میں لفظمُحَمَّدٍسے پہلےسَیِّدِنَابڑھادیتے ہیں،بعض حجاج تلبیہ میں یہ زیادتی کر دیتے ہیں"اِنَّ عَبْدَكَ وَاِبْنَ عَبْدَیْكَ وَاقِفٌ بَیْنَ یَدَیْكَ حَالُہٗ لَایَخْفٰی عَلَیْكَ"وغیرہ اس میں بھی حرج نہیں،ہاں درود وظیفوں کے الفاظ بالکل نہ بدلے جائیں کیونکہ وہ کسی خاص اثر کے لیے ہوتے ہیں اور یہ اثر منقولہ الفاظ سے وابستہ ہے اور دعائیں محض ثواب کے لیے یہاں جتنے الفاظ زیادہ اتنا ثواب زیادہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1994