Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1995

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ؛ لأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر؛ لأن اليهود والنصارى يؤخرون". رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین غالب رہے گا جب تک لوگ جلدی افطارکرتے رہیں ۱؎کیونکہ یہود اور عیسائی دیر سے افطار کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمانوں کا جلدی روزہ افطارتے رہنا دین کے غلبے کا سبب ہے۔معلوم ہوا کہ سنتوں بلکہ مستحبات کی پابندی مسلمانوں کی شوکت اور دین کے ظہور و دبدبہ کاباعث ہے،پھر فرائض کا کیا پوچھنا،ہندوستان کے مسلمان اذان اور گائے کی قربانی پر کفار سے لڑتے رہے،کیوں؟غلبۂ اسلام کو قائم رکھنے کے لیے۔خیال رہے کہ یہاں جلدی سے مراد وقت جواز میں جلدی ہے جب سورج ڈوب جائے پھر دیر نہ لگائے،بلاوجہ دیر لگانا سنت کے خلاف ہے اور اتنی دیر کہ تارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی۔
۲
؎یعنی دیر سے افطار کرنے میں ا ہل کتاب سے مشابہت ہے۔مرقاۃ و اشعہ نے فرمایا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کی درستی سارے کفار کی مخالفت سے وابستہ ہے ان سے مشابہت میں دین کی کمزوری ہے۔ افسوس ان مسلمانوں پر جومحض عیسائیوں کی مشابہت کے لیے داڑھیاں منڈائیں،کھڑے ہو کر پیشاب کریں، ننگے سر پھریں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآء"اورفرماتاہے:"وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ"۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بہت دیر کرکے روزہ افطارنے کو دین سمجھتے ہیں،سورج ڈوبتے ہی فورًا روزہ افطارنا چاہئیے اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا:"ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلفِی الَّیْلِنہ فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1995