Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1983

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کے چند لقمے ہیں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اکلہالف کے پیش اور کاف کے جزم سے،بمعنی لقمے یا نوالے اور الف کے زبر سے بمعنی کھانا یعنی سحری کے نوالے یا سحری کھانا مسلمان اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہیں کیونکہ ان کے ہاں رات کو سونے کے بعد کھانا حرام ہوجاتا ہے،اسلام میں بھی پہلے یہی حکم تھا اب پوپھٹنے تک کھانا پینا حلال کردیا گیا،سحری کھانے میں اللہ کی دعوت کا قبول کرنا ہے اور اس کی اس نعمت کا شکریہ۔اُکْلَہفرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ سحری تھوڑی کھانا بہتر ہے اتنی زیادہ کہ دوپہر تک کھٹی ڈکاریں آئیں بہتر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1983