Main Icon

باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1993

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: "ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن ابن عمر قال: كان النبي صلی اللہ عليه وسلم إذا أفطر قال: "ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اوران شاء اللهثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں رب تعالٰی کا انتہائی شکر ہے کہ پیاس اور رگوں کی خشکی ایک عارضی چیزیں تھیں جو افطار کرتے ہی دور ہوگئیں مگر اس عارضی تکلیف پر جو رب تعالٰی نے ثواب عطا فرمایا وہ عظیم الشان ہے اور دائمی ہے۔ان شاء اللهیا محض برکت کے لیے فرمایا گیا یا ہماری تعلیم کے لیےکہ ہم کو روزہ مقبول یا مردود ہونے کی خبر نہیں،اگر رب تعالٰی نے قبول فرمالیا ہو تو پھر اجر ہی اجر ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہاِنَّبمعنیاِذْاور اس کا تعلق گزشتہ تینوں چیزوں سے ہے مگر پہلی توجیہ قوی بھی ہے اور موقعہ کے مناسب بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1993