باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5851
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: [يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ] قُلْتُ: يَقُولُونَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ذٰلِكَ. وَقُلْتُ لَهٗ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي. فَقَالَ لِي جَابِرٌ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جَوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَنَزَلَتْ: {يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن يحيى بن أبي كثير قال: سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن عن أول ما نزل من القرآن ؟ قال: [ياأيها المدثر] قلت: يقولون: {اقرأ باسم ربك} قال أبو سلمة: سألت جابرا عن ذلك. وقلت له مثل الذي قلت لي. فقال لي جابر: لا أحدثك إلا بما حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " جاورت بحراء شهرا فلما قضيت جواري هبطت فنوديت فنظرت عن يميني فلم أر شيئا ونظرت عن شمالي فلم أر شيئا ونظرت عن خلفي فلم أر شيئا فرفعت رأسي فرأيت شيئا فأتيت خديجة فقلت: دثروني فدثروني وصبوا علي ماء باردا، فنزلت: {ياأيها المدثر قم فأنذر وربك فكبر وثيابك فطهر والرجز فاهجر} وذلك قبل أن تفرض الصلاة. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت یحیی ابن ابی کثیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے ۱؎قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت کے متعلق پوچھا تو فرمایایاایہا المدثرہے،میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہاقرا باسم ربكہے ۲؎تو ابو سلمہ بولے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا اور میں نے ان سے اسی طرح کہا جو تم نے مجھ سے کہا تو مجھ سے حضرت جابر نے کہا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر اس کی جو ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خبر دی فرمایا تھا کہ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا۳؎تو جب میں نے اپنا اعتکاف پورا کیا۴؎تو میں اتر آیا پھر مجھے پکارا گیا میں نے اپنے داہنے دیکھا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے بائیں غور کیا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے پیچھے دیکھا تو کچھ نہ پایا ۵؎پھر میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی پھر میں جناب خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو انہوں نے اوڑھا دیا اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا ۶؎تب یہ آیت اتری اے کپڑے اوڑھنے والے اٹھو ڈراؤ اور اپنے رب کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو پلیدی دور کرو،یہ واقعہ نماز فرض کیے جانے سے پہلے کا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ دونوں حضرات تابعی ہیں،یحیی ابن کثیر بھی اور ابو سلمہ ابن عبدالرحمن بھی دونوں بڑے عالم فقیہ،عابد زاہد متقی تھے۔
۲؎دونوں روایتیں درست ہیں نبوت کی پہلی آیت"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّكَ"ہےاور رسالت کی پہلی آیت"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"وحی بند ہونے کے بعد اتری ہے۔(مرقات)یعنی تبلیغ انداز کی پہلی آیت"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"ہے۔
۳؎یہاں اعتکاف سے وہ اعتکاف مراد ہے جو وحی بند ہوجانے کے زمانہ میں حضور انور نے غار حرا میں کیا تھا"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّكَ"آیۃ آچکی تھی،اس کے بعد بھی حضور انور غار حرا میں جاتے وہاں عبادت کرتے رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وحی ایک ماہ تک بند رہی ہے۔(مرقات)وحی بند رہنے کی مدت میں جو گفتگو ہے وہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔حضور انور کا پہلا اعتکاف تو چھ ماہ کا تھا جو نزول وحی سے پہلے ہوا۔
۴؎یعنی یہ دوسرا اعتکاف ایک ماہ والا مراد ہے لہذا حدیث پر کوئی اشکال نہیں وہ پہلا اعتکاف چھ ماہ والا مراد نہیں۔خیال رہے کہ ان اعتکافوں میں حضور انور ساتویں آٹھویں دن اپنے گھر جناب خدیجۃ الکبریٰ کے پاس روٹی لینے تشریف لاتے تھے۔
۵؎یعنی آواز تھی مگر آواز والا کوئی نہ تھا۔
۶؎کیونکہ الله کے ذکر اس کی تجلی میں گرمی ہوتی ہے جو کبھی ٹھنڈے پانی سے کم ہوجاتی ہے۔بعض صوفیا کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ٹھنڈے پانی میں نہر یا دریا میں کھڑے ہو کر ذکر الله کرتے ہیں یہ غلط نہیں ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۷؎معلوم ہوا کہ طہارت و صفائی کا حکم پہلے آیا نماز کا حکم بعد میں،یہ بھی خیال رہے کہ نماز پنجگانہ معراج میں آئی یعنی شب معراج میں اور نماز تہجد پہلے آئی معراج سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے،بیت المقدس میں حضرات انبیاءکرام کو یہ نماز تہجد کی پڑھائی ہوگی۔والله اعلم!یہاںصلوۃسے مراد مطلقًا نماز ہے کیونکہ سورۂ مدثر کے عرصہ کے بعد سورۂ مزمل آئی اور سورۂ مزمل سے نماز تہجد جاری ہوئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5851