Main Icon

باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5851

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: [يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ] قُلْتُ: يَقُولُونَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ذٰلِكَ. وَقُلْتُ لَهٗ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي. فَقَالَ لِي جَابِرٌ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جَوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَنَزَلَتْ: {يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن يحيى بن أبي كثير قال: سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن عن أول ما نزل من القرآن ؟ قال: [ياأيها المدثر] قلت: يقولون: {اقرأ باسم ربك} قال أبو سلمة: سألت جابرا عن ذلك. وقلت له مثل الذي قلت لي. فقال لي جابر: لا أحدثك إلا بما حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " جاورت بحراء شهرا فلما قضيت جواري هبطت فنوديت فنظرت عن يميني فلم أر شيئا ونظرت عن شمالي فلم أر شيئا ونظرت عن خلفي فلم أر شيئا فرفعت رأسي فرأيت شيئا فأتيت خديجة فقلت: دثروني فدثروني وصبوا علي ماء باردا، فنزلت: {ياأيها المدثر قم فأنذر وربك فكبر وثيابك فطهر والرجز فاهجر} وذلك قبل أن تفرض الصلاة. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن ابی کثیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے ۱؎قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت کے متعلق پوچھا تو فرمایایاایہا المدثرہے،میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہاقرا باسم ربكہے ۲؎تو ابو سلمہ بولے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا اور میں نے ان سے اسی طرح کہا جو تم نے مجھ سے کہا تو مجھ سے حضرت جابر نے کہا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر اس کی جو ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خبر دی فرمایا تھا کہ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا۳؎تو جب میں نے اپنا اعتکاف پورا کیا۴؎تو میں اتر آیا پھر مجھے پکارا گیا میں نے اپنے داہنے دیکھا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے بائیں غور کیا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے پیچھے دیکھا تو کچھ نہ پایا ۵؎پھر میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی پھر میں جناب خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو انہوں نے اوڑھا دیا اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا ۶؎تب یہ آیت اتری اے کپڑے اوڑھنے والے اٹھو ڈراؤ اور اپنے رب کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو پلیدی دور کرو،یہ واقعہ نماز فرض کیے جانے سے پہلے کا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں حضرات تابعی ہیں،یحیی ابن کثیر بھی اور ابو سلمہ ابن عبدالرحمن بھی دونوں بڑے عالم فقیہ،عابد زاہد متقی تھے۔
۲
؎دونوں روایتیں درست ہیں نبوت کی پہلی آیت"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّكَ"ہےاور رسالت کی پہلی آیت"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"وحی بند ہونے کے بعد اتری ہے۔(مرقات)یعنی تبلیغ انداز کی پہلی آیت"یٰۤاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ"ہے۔
۳
؎یہاں اعتکاف سے وہ اعتکاف مراد ہے جو وحی بند ہوجانے کے زمانہ میں حضور انور نے غار حرا میں کیا تھا"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّكَ"آیۃ آچکی تھی،اس کے بعد بھی حضور انور غار حرا میں جاتے وہاں عبادت کرتے رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وحی ایک ماہ تک بند رہی ہے۔(مرقات)وحی بند رہنے کی مدت میں جو گفتگو ہے وہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔حضور انور کا پہلا اعتکاف تو چھ ماہ کا تھا جو نزول وحی سے پہلے ہوا۔
۴
؎یعنی یہ دوسرا اعتکاف ایک ماہ والا مراد ہے لہذا حدیث پر کوئی اشکال نہیں وہ پہلا اعتکاف چھ ماہ والا مراد نہیں۔خیال رہے کہ ان اعتکافوں میں حضور انور ساتویں آٹھویں دن اپنے گھر جناب خدیجۃ الکبریٰ کے پاس روٹی لینے تشریف لاتے تھے۔
۵
؎یعنی آواز تھی مگر آواز والا کوئی نہ تھا۔
۶
؎کیونکہ الله کے ذکر اس کی تجلی میں گرمی ہوتی ہے جو کبھی ٹھنڈے پانی سے کم ہوجاتی ہے۔بعض صوفیا کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ٹھنڈے پانی میں نہر یا دریا میں کھڑے ہو کر ذکر الله کرتے ہیں یہ غلط نہیں ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۷
؎معلوم ہوا کہ طہارت و صفائی کا حکم پہلے آیا نماز کا حکم بعد میں،یہ بھی خیال رہے کہ نماز پنجگانہ معراج میں آئی یعنی شب معراج میں اور نماز تہجد پہلے آئی معراج سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے،بیت المقدس میں حضرات انبیاءکرام کو یہ نماز تہجد کی پڑھائی ہوگی۔والله اعلم!یہاںصلوۃسے مراد مطلقًا نماز ہے کیونکہ سورۂ مدثر کے عرصہ کے بعد سورۂ مزمل آئی اور سورۂ مزمل سے نماز تہجد جاری ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5851