Main Icon

باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5840

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ البُخَارِيُّ: ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ أَكْثَرُ

وعنه قال: قبض النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثلاث وستين وأبو بكر وهو ابن ثلاث وستين وعمر وهو ابن ثلاث وستين. رواه مسلم
قال محمد بن إسماعيل البخاري: ثلاث وستين أكثر

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں وفات دیئے گئے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں ۱؎اور عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں ۲؎(مسلم)محمد ابن اسمعیل بخاری نے فرمایا کہ تریسٹھ سال کی روایت زیادہ ہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عثمان غنی کی عمر شریف بیاسی سال ہوئی ان تمام حضرات کے نام اور کام یکساں ہیں۔
نکتہ عجیبہ: حضور انور نے فرمایا
خیر القرون قرنی۔اسقرنیمیںقسے اشارہ ہے ابوبکر صدیق کی طرف،رسے عمر فاروق کی طرف،نسے عثمان غنی کی طرف اوریسے حضرت علی کی طرف یہ چاروں زمانے حضور انور کے اپنے زمانے ہیں رضی الله عنھم اجمعین۔حضرت صدیق اکبر کی خلافت دو سال چار ماہ ہوئی،بائیس جمادی الاول منگل کی شب ۱۳ھ؁ ∞تیرہ ہجری مغرب و عشاء کے درمیان وفات پائی،آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس نے آپ کوغسل دیا،عمر فاروق نے نماز پڑھائی۔
۲
؎حضرت عمر کی خلافت دس سال چھ ماہ ہوئی،چھبیس ذی الحجہ بدھ کے دن آپ کو مغیرہ ابن شعبہ کے یہودی غلام ابو لولو نے فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے محراب النبی میں برچھا مارا اس سے آپ شہید ہوئے، ۲۳ھ؁ ∞ اتوار کے دن دفن کئے گئے خاص روضہ انور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں۔حضرت علی خاص شہادت عثمان کے دن خلیفہ ہوئے یعنی اٹھارہ ذی الحجہ جمعہ کے دن ۳۵ھ؁ ∞ پینتیس ہجری میں عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے آپ کو جمعہ کے دن سترہ رمضان ۴۰ھ؁ ∞ہجری میں کوفہ میں شہید کیا، آپ کی خلافت چار سال ۹ ماہ چند دن ہوئی۔حضرت انس نے جب یہ حدیث بیان کی تو اس وقت حضرت علی زندہ تھے اس لیے آپ کا ذکر نہیں کیا۔ (مرقات)ایک دن امیر معاویہ نے فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اور حضرت ابوبکر و عمر کی عمریں تریسٹھ سال ہوئیں اب میری عمر بھی تریسٹھ سال ہے میری تمنا ہے کہ اس سال میری وفات بھی ہوجائے مگر آپ کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔بلکہ آپ کی عمر شریف اٹھہتر سال ہوئی مگر آپ کو اس تمنا کا ثواب مل گیا۔(مرقات)و ترمذی میں جریر عن معاویہ۔
۳
؎چنانچہ امام احمد بن حنبل نے بھی تریسٹھ سال کو ترجیح دی ہے،قاضی عیاض نے تو روایت پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔اس پر سب متفق ہیں کہ حضور کی ولادت پاک دو شنبہ کے دن صبح صادق کے وقت ماہ ربیع الاول میں ہوئی،اس پر بھی اتفاق ہے کہ وفات شریف دو شنبہ بارہ ربیع الاول دوپہر کے وقت ہوئی مگر اس میں اختلاف ہے کہ ولادت پاک دوسری ربیع الاول کو ہوئی یا آٹھویں کو یا دسویں کو یا بارھویں کو مگر زیادہ مشہور بارہ ربیع الاول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5840