Main Icon

باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5842

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: حَتّٰى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَي يَتَرَدّٰى مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ فَكُلَّمَا أَوْفٰى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهٗ مِنْهُ تَبَدّٰى لَهٗ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذٰلِكَ جَأشُهٗ وَتَقِرُّ نَفْسُهٗ

وزاد البخاري: حتى حزن النبي صلى الله عليه وسلم فيما بلغنا حزنا غدا منه مرارا كي يتردى من رؤوس شواهق الجبل فكلما أوفى بذروة جبل لكي يلقي نفسه منه تبدى له جبريل فقال: يا محمد إنك رسول الله حقا. فيسكن لذلك جأشه وتقر نفسه

حدیث ترجمہ

بخاری نے یہ زیادتی کی کہ حتی کہ نبی صلی الله علیہ و سلم غمگین ہوئے جو روایت ہم کو پہنچی ہے ۱؎اس میں ہے کہ آپ سخت غمگین بارہا صبح کے وقت گئے تاکہ اپنے کو اونچی پہاڑ کی چوٹی سے گرادیں۲؎مگر جب کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تاکہ وہاں سے اپنے کو گرادیں تو حضرت جبریل حضور کے سامنے آتے کہتے اے محمدآپ الله کے سچے رسول ہیں اس سے آپ کا قلق جاتا رہتا اور آپ کا دل مطمئن ہوجاتا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ عبارتفیما بلغناکسی راوی کا قول ہے یعنی پہلے تو قلب پاک پر رعب اور خوف تھا اور اب شوق کا دریا موجیں مار رہا تھا مگر ادھر سے خاموشی تھی۔شعر
دیر است کہ دلدار پیامے نہ فرستاد ننوشت سلامی نہ فرستاد کلامے
۲
؎یعنی شوق و فراق برداشت سے باہر ہوگیا تو اپنے کو ہلاک کرنے کے لیے پہاڑ پر چڑھے کہ وہاں سے اپنے کو گرا کر خودکشی کریں اس وقت تک احکام شرعیہ نہیں آئے تھے لہذا یہ ارادہ گناہ نہ تھا۔
۳
؎یعنی جبریل امین آکر عرض کرتے تھے کہ آپ ہیں سچے رسول وحی الٰہی آئے گی اور بارہا آئے گی آپ غم نہ کریں۔یہ سنکر حضور انور واپس گھر لوٹ آتے پھر شوق کا جوش ہوتا پھر وہی ارادہ فرماتےسبحان الله!کیا انداز محبوبانہ ہے کہ کلام بھی نہیں فرماتے آگے بڑھنے بھی نہیں دیتے۔شعر
دیکر جھلک سی آپ تو پردہ میں چھپ رہے اور کہہ گئے کہ آنکھ سے ڈھونڈھا کرے کوئی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5842