Main Icon

باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5838

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرٰى شَيْئًا وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحٰى اِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة خمس عشرة سنة يسمع الصوت ويرى الضوء سبع سنين ولا يرى شيئا وثمان سنين يوحى اليه وأقام بالمدينة عشرا وتوفي وهو ابن خمس وستين.
(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مکہ معظمہ میں پندرہ سال قیام فرمایا ۱؎کہ سات سال تک غیبی آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے اور دیکھتے کچھ نہ تھے ۲؎اور آٹھ سال آپ پر وحی کی جاتی تھی اور مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور پینسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب ابھی عرض کیا جاچکا ہے کہ ولادت شریف اور ہجرت شریف کے سال علیحدہ مان لیے گئے اس حساب سے پندرہ سال کہے گئے۔
۲
؎بعض روایات میں ہے کہ یہ غیبی نور اور غیبی آوازیں ظہور نبوت سے پہلے حضور دیکھتے اور سنتے تھے یہ نور اور آوازیں فرشتے کی تھیں پہلے صرف نور اور آوازوں کا حضور کو عادی بنایا گیا،پھر فرشتہ وحی لایا تاکہ حضور انور اس کی برداشت کرسکیں،اک دم سارا بوجھ نہ ڈالا گیا اس کے باوجود نزول وحی پر سردی میں پسینہ آجاتا تھا۔(مرقات و اشعہ)موسیٰ علیہ السلام کو پہلے عصا سے مانوس کیا گیا،پھر کوہ طور پر تنہائی میں انہیں عصا کو سانپ بنا کر دکھایا گیا تاکہ فرعون کے سامنے سانپ بن جانے پر آپ کو فکر نہ ہو۔
۳
؎اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ عمر شریف تریسٹھ ہے یہ دو سال کسروں کو پورا کرکے لئے گئے ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5838