باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5847
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمْعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلٰى جَزُورِ آلِ فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلٰى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا ثُمَّ يُمْهِلُهٗ حَتّٰى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهٗ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا فَضَحِكُوا حَتّٰى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلٰى فَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ تَسْعٰى وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا حَتَّى اَلقَتْهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ فَلَمَّا قَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «اللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ثَلَاثًا وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا «اللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ وَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَوَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» . قَالَ عَبدُ اللّٰهِ: فَوَاللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعٰى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى القَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عبد الله بن مسعود قال: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند الكعبة وجمع قريش في مجالسهم إذ قال قائل: أيكم يقوم إلى جزور آل فلان فيعمد إلى فرثها ودمها وسلاها ثم يمهله حتى إذا سجد وضعه بين كتفيه وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا فضحكوا حتى مال بعضهم على بعض من الضحك فانطلق منطلق إلى فاطمة فأقبلت تسعى وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا حتى القته عنه وأقبلت عليهم تسبهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: «اللهم عليك بقريش» ثلاثا وكان إذا دعا دعا ثلاثا وإذا سأل سأل ثلاثا «اللهم عليك بعمرو بن هشام و عتبة بن ربيعةوشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي معيط وعمارة بن الوليد» . قال عبد الله: فوالله لقد رأيتهم صرعى يوم بدر ثم سحبوا إلى القليب قليب بدر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «وأتبع أصحاب القليب لعنة» . (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تھے ۱؎اور قریش کی ایک جماعت اپنی مجلسوں میں تھی کہ ایک بولا ۲؎تم میں کون شخص فلاں قبیلہ کے ذبیحہ اونٹ کیطرف جائے گا اور اس کی لید اور ا س کے خون اس کی اوجڑی لائے حضور کو مہلت دے حتی کہ جب آپ سجدہ کریں تو اسے آپ کے کندھوں کے بیچ رکھ دے۳؎تو ان میں سے بڑا بدبخت گیا پھر جب حضور نے سجدہ کیا تو وہ آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا۴؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں ٹھہرے رہے ۵؎کفار ہنسے حتی کہ بعض بعض پر گرنے لگے ہنسی کی وجہ سے ۶؎پھر کوئی جانے والا جناب فاطمہ کے پاس گیا ۷؎وہ دوڑتی آئیں ۸؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں رہے حتی کہ انہوں نے آپ سے یہ گندگی ہٹا دی اور آپ ان پر متوجہ ہوئیں انہیں برا کہتی تھیں ۹؎پھر جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے نماز پوری فرمالی تو عرض کیا الٰہی ان قریشیوں کو پکڑ لے تین بار فرمایا ۱۰؎اور آپ جب دعا مانگتے تو تین بار مانگتے تھے اور جب سوال کرتے تو تین بار کرتے تھے ۱۱؎الٰہی پکڑ لے ابوجہل کو۱۲؎عتبہ ابن ربیعہ کو شیبہ ابن ربیعہ کو۱۳؎اور ولید ابن عتبہ کو اور امیہ ابن خلف کو اور عقبہ ابن ابی معیط کو اور عمارہ ابن ولیدکو۱۴؎جناب عبدالله فرماتے ہیں کہ الله کی قسم میں نے انہیں بدر کے دن پچھڑا ہوا دیکھا ۱۵؎پھر وہ بدر کے جھیرے کی طرف کھینچ کر پھینکے گئے ۱۶؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان جھیرے والوں پر لعنت ڈالی گئی ۱۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ نماز وہ نماز تھی جو حضور انور اپنے الہام سے پڑھا کرتے تھے،یہ نماز پنج گانہ میں سے نہ تھی کیونکہ یہ واقعہ جب کا ہے جب جناب فاطمہ بہت چھوٹی بچی تھی اور ابھی حضور انور کو معراج نہیں ہوئی تھی نماز پنجگانہ معراج میں عطا ہوئی ہے۔
۲؎یہ بولنے والا ابوجہل تھا جیساکہ روایات میں ہے،بعض نے کہا کہ کوئی اور تھا۔(مرقات)
۳؎یعنی وہ تو یہ حرکت کرے اور ہم لوگ تماشا کے طور پر ہنسی مذاق کریں۔معلوم ہوا کہ حضرات انبیاءکرام سے ہنسی کرنا کفار کا پرانا دستور ہے،ان حضرات کےکسی عمل شریف کا مذاق اڑانا کفر ہے،ان کی ہر ادا کا ادب و احترام ایمان کا رکن ہے۔
۴؎یہ حرکت کرنے والا عقبہ ابن ابی معیط تھا،بعض نے کہا کہ ابوجہل خود تھا۔
۵؎چونکہ اس وقت تک نماز کے احکام طہارۃ وغیرہ نہیں آئے تھے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست پڑ جانے کے باوجود سجدہ جاری رکھا،یہ نماز وہ نہ تھی جو اسلام میں بعد معراج جاری ہوئی یا ممکن ہے کہ سر مبارک اس لیے نہ اٹھایا کہ فرش کعبہ پر یہ نجاستیں نہ گریں۔جب جناب فاطمہ نے یہ چیزیں پھینک دیں تو کپڑے پاک کرکے نماز دوبارہ پڑھی ہو لہذا اب اگر دوران نماز نمازی پر نجاست گر جاوے تو نماز ٹوٹ جاوے گی دوبارہ پڑھنی ہوگی،بعض آئمہ کے ہاں اگر دوران نماز نمازی پر نجاست گرجاوے تو نماز ہوجاتی ہے اول سے کپڑے بدن پاک ہونا چاہئیں درمیان میں پاک رہنا ضروری نہیں انکے قول پر حدیث بالکل ظاہر ہے۔
۶؎یہ ہنسی صرف کفر ہی نہ تھی بلکہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ تھی ان لوگوں کو ایمان کی توفیق نہ ملی حتی کہ جنگ بدر میں سارے کفر پر مارے گئے۔
۷؎اس وقت حضرت ابوبکر صدیق یا علی مرتضیٰ یا اور کوئی صحابی موجود نہ تھے کفار میں سے کوئی نرم دل کافر جو بدنصیبوں کا مقابلہ کرکے حضور انور کی یہ تکلیف دور نہ کرسکتا تھا وہ دوڑا ہوا جناب فاطمہ کے پاس پہنچا کہ ایسے موقعہ پر چھوٹے بچے بے تکلف وہ کام کرلیتے ہیں جو بڑوں سے نہیں ہوتے اور اگر مسلمان نے خبر دی ہے تو وہ بھی یہی وجہ تھی کہ اس مسلمان کے یہ پلیدی ہٹانے پر جنگ کا خطرہ تھا وہ اکیلا ان سب سے لڑ نہ سکتا تھا اس لیے اس نے یہ ترکیب نکالی۔اشعۃ اللمعات نے کہا کہ یہ خبر دینے والے حضرت عبدالله ابن مسعود تھے۔
۸؎اس وقت حضرت فاطمہ بہت چھوٹی بچی تھیں اسی لیے آپ دوڑتی ہوئی آئیں بچے جب بھی چلتے ہیں تو دوڑتے ہوئے چلتے ہیں۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا کی ولادت پاک کے وقت حضور انور کی عمر شریف اکتالیس سال تھی۔
۹؎خیال رہے کہ عربی میںشتمکہتے ہیں گالی کو،سبکہتے ہیں برا کہنے ملامت کرنے کو۔حضرت فاطمہ کی زبان شریف پر گالی کبھی نہیں آئی ہاں آپ نے اس وقت کفار کو ملامت کیسبکے یہ ہی معنی ہیں۔
۱۰؎قریش سے مراد قوم قریش نہیں،قریش تو خود حضور انور جناب صدیق و فاروق عثمان و علی بھی ہیں۔مراد یہ قریشی لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ بے ادبی گستاخی کی،اگلی عبارت اسی کی تفصیل ہے۔نماز پوری فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے فورًا نماز نہیں توڑ دی بلکہ بقیہ رکعات پوری فرمالیں،اس کی تحقیق ابھی کی گئی کہ اس وقت نماز میں طہارت کے بلکہ خود نماز کے احکام نہیں آئے تھے۔
۱۱؎سنت یہ ہی ہے کہ دعا مانگے تو تین بار،رب سے کچھ سوال کرے تو تین بار،سوال سے مراد بھی دعا ہی ہے۔
۱۲؎ابوجہل کا نام عمرو ابن ہشام ابن مغیرہ مخزومی ہے،اس کی کنیت ابو الحکم تھی کہ لوگوں میں یہ فیصلے کرتا تھا حضور انور نے اس کی کنیت ابوجہل رکھی،اس میں وہ ایسا مشہور ہوگیا کہ اس کا نام اس کی پہلی کنیت چھپ کر رہ گئی۔غزوہ بدر میں عفراء کے دو بچوں معوذ و معاذ کے ہاتھوں قتل ہوا،حضرت عبدالله ابن مسعود نے اس کا ناپاک سر جسم سے جدا کیا۔
۱۳؎حضور انور نے اپنی ذاتی دشمن کو کبھی بددعا نہیں دی،یہ دشمن دینی تھے جو حضور انور کی نماز میں خلل ڈالتے اور حضور کو دینی تکالیف بھی پہنچاتے رہتے۔اپنے دشمنوں کو معافی دینا،قوم،ملک،قانون کے دشمنوں پرسختی کرنا یہ ہی اخلاقی محمدی ہیں"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَهُمْ"۔
۱۴؎خیال رہے کہ شیبہ ابن ربیعہ ابن شمس ابن عبدمناف کو بدر کے دن حضرت علی نے جہنم رسید کیا اور عتبہ ابن ربیعہ کو جو شیبہ کا بھائی تھا حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب نے بدر کے دن قتل کیا اور امیہ ابن خلف جو حضرت بلال کا پہلا مولٰی تھا یہ بھی بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں بہت بری طرح مارا گیا جس کا ذکر بہت طویل ہے۔الله تعالٰی نے اسے اسی طرح قتل کرایا نیزے، برچھے چھروا کر جیسے وہ حضرت بلال کے جسم شریف میں گرم لوہے کی سلاخین چبھویا کرتا تھا۔اس کے بھائی ابی ابن خلف کو احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قتل کیا اپنے ہاتھ شریف سے،صرف یہ ہی کافر حضور کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔
۱۵؎یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور انور کی یہ دعا قبول ہوئی اور یہ لوگ کفر پر مرے یا مارے گئے۔ خیال رہے کہ ان میں سے عمارہ ابن ولید جنگ بدر میں قتل نہیں ہوا بلکہ حبشہ میں مرا اور عقبہ ابن ابی معیط جنگ بدر سے واپس آکر مارا گیا۔(اشعہ)لہذا ان سب کو بدر کا مقتول کہنا تغلیبًا ہے۔
۱۶؎بدر ایک شخص کا نام تھا جو اس جگہ کا مالک تھا اس کے نام پر اس علاقہ کو اور اس کنویں کو بدر کہنے لگے۔قلیب کنویں کے پاس وہ گہرا غار جو کچا ہو اور اس پر من وغیرہ نہ ہو اس میں ان تمام کی لاشیں ڈالی گئیں مگر امیہ ابن خلف کی لاش ڈالی نہیں جاسکی کیونکہ اسے کھینچتے ہی اس کے اعضاء الگ الگ ہوگئے۔
۱۷؎یعنی دنیا میں تو ان کی ایسی ذلت و رسوائی ہوئی اور آخرت کی رسوائی اور عذاب ان کے لیے تیار تھا کہ قلیب میں پڑتے ہی اس میں گرفتار کرلیے گئے۔لعنت سے مراد فرشتوں کی پھٹکار اور ان کی سخت مار ہے جس میں وہ گرفتار ہوئے۔ (مرقات)معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے والا بدترین بدبخت ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں لینے والا بہت ہی خوش نصیب ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5847