Main Icon

باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5845

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذٰلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهٗ. وَفِي رِوَايَةٍ: نَكَسَ رأسَهٗ وَ نَكَسَ أَصْحَابُهٗ رُؤُوسَهُمْ فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبادة بن الصامت قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أنزل عليه الوحي كرب لذلك وتربد وجهه. وفي رواية: نكس رأسه و نكس أصحابه رؤوسهم فلما أتلي عنه رفع رأسه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے بڑے متفکرہوتے ۱؎اور آپ کا چہرہ بدل جاتا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ سرجھکالیتے اور آپ کے صحابہ اپنے سرجھکالیتے پھر جب ختم ہوتی تو اپنا سر اٹھاتے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںکرببمعنی فکر مند ہونا نہایت موزوں ہیں،غمگین ہونے کے معنی مناسب نہیں حضور انور کو یہ فکر یا تو وحی کی شدت کی بنا پر ہوتی تھی یا اس کی تبلیغ کی ذمہ داریوں پر۔اس کے شکریہ ادا کرنے کی فکر کہ وحی ایک نعمت ہے اور نعمت کا شکر لازم ہے وہ بھی بقدر نعمت۔مرقاۃ میں یہاں فرمایا کہ یہ حال شریف ابتداءنبوت میں ہواکرتا تھا بعد میں نہیں۔والله اعلم !۲؎حضور انور تو اپنا سر شریف غور سے سننے کے لیے جھکا لیتے تھے،حاضرین بارگاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے لیے سر جھکاتے تھے وجہ میں فرق تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5845