باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5848
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ أَتٰى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ فَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلِ بْنِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلٰى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلٰى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهٗ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ". قَالَ: " فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِم الأَخْشَبَيْنِ " فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَلَا يُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا » . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عائشة قالت: يا رسول الله هل أتى عليك يوم كان أشد من يوم أحد؟ فقال: " لقد لقيت من قومك فكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة إذ عرضت نفسي على ابن عبد ياليل بن كلال فلم يجبني إلى ما أردت فانطلقت وأنا مهموم على وجهي فلم أستفق إلا بقرن الثعالب فرفعت رأسي فإذا أنا بسحابة قد أظلتني فنظرت فإذا فيها جبريل فناداني فقال: إن الله قد سمع قول قومك وما ردوا عليك وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم ". قال: " فناداني ملك الجبال فسلم علي ثم قال: يا محمد إن الله قد سمع قول قومك وأنا ملك الجبال وقد بعثني ربك إليك لتأمرني بأمرك، إن شئت أن أطبق عليهم الأخشبين " فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بل أرجو أن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده ولا يشرك به شيئا » . (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا آپ پر کوئی دن ایسا بھی گزرا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ۱؎تو فرمایا میں نے تمہاری قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں ۲؎احد سے سخت دن جب میں نے ان کی مصیبت جھیلی عقبہ کا دن تھا۳؎جب کہ میں نے اپنے کو ابن عبدیا لیل ابن کلال کے سامنے کیا ۴؎جو میں نے چاہا تھا اس نے وہ جواب نہ دیا ۵؎تو میں اپنے رخ پر چلا حالانکہ میں حیران تھا مجھے اس حیرانی سے افاقہ نہ ہوا مگر مقام قرن ثعالب میں ۶؎تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۷؎تو میں ایک بادل کے سامنے تھا جس نے مجھ پر سایہ کیا تھا میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے۸؎انہوں نے مجھے پکارا عرض کیا کہ الله نے آپ کی قوم کا کلام اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا سن لیا آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ۹؎تاکہ آپ ان کفار کے متعلق جو چاہیں حکم دیں۱۰؎فرمایا کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا مجھے سلام کیا پھر کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۱۱؎الله نے آپ کی قوم کا کلام سن لیا میں پہاڑوں کافرشتہ ہوں مجھے آپ کے رب نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنے فیصلے کا حکم دیں۱۲؎اگر آپ چاہیں تو میں ان لوگوں پر دو اخشب پہاڑ ملادوں۱۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا بلکہ میں امیدکرتا ہوں کہ الله تعالٰی ان کی پیٹھوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے جو ایک الله کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ۱۴؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎غزوہ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز شہید ہوئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شریف شکستہ ہوا،سر مبارک زخمی ہوا،مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی۔میرے خیال میں ایسا سخت دن آپ پر کوئی نہیں گزرا ہوگا فرمایئے تو اس سے سخت دن بھی کوئی آپ پر گزرا ہے۔
۲؎یہاںقومكفرمانا اظہار افسوس کے لیے ہے حضرت عائشہ صدیقہ کی قوم وہی تو ہے جو حضور انور کی قوم ہے یعنی قریش۔مقصد یہ ہے کہ ہم نے قریش سے بہت تکلیفیں دیکھی ہیں جو غزوہ احد سے زیادہ سخت تھیں کہ ان میں میرے قلب کو زخمی کیا گیا۔
۳؎عقبہ منیٰ شریف کے ایک حصہ کا نام ہے،جمرہ عقبہ اس ستون کا نام ہے جو اسی جگہ واقع ہے۔حضور انور حج کے زمانہ میں منٰی شریف میں باہر سے آنے والوں کو تبلیغ فرمایا کرتے تھے یہاں اس تبلیغ کا ذکر ہے۔یوم عقبہ سے مراد ہے عقبہ کے میدان میں تبلیغ کا دن،عقبہ پہاڑ کے راستہ کو کہتے ہیں،چونکہ یہ جگہ دو پہاڑوں کے بیچ میں ہے اسی لیے اس کو عقبہ کہا جاتا ہے۔ (مرقات)یاعقببمعنی پیچھے ہے یہاں کا جمرہ پہلے دو جمروں کے پیچھے واقع ہے لہذا یہ ستون جمرہ عقبہ کہلاتا ہے اور یہ جگہ عقبہ۔
۴؎اس شخص کا نام مسعود ابن عبد یا لیل ابن کلال ابن عمرو تھا،یہ قبیلہ بنی ثقیف سے تھا،طائف کا رہنے والا وہاں کا بڑا سردار تھا،یہ سولہ سولہ ساتھیوں کے ساتھ طائف سے حج کرنے آیا تھا،اسے حضور انور نے عقبہ میں دعوتِ اسلام دی یہ سخت بدتمیزی سے پیش آیا اور اسلام لانے سے انکار کر گیا،حضور انور کو اس سے بہت صدمہ ہوا،ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ ۱۰ ∞ہجری میں مسلمان ہوا،انہوں نے اسے صحابہ میں شمار کیا ہے مگر علامہ واقدی نے کہا کہ یہ مسلمان نہیں ہوا۔والله اعلم!(مرقات)
۵؎یعنی اس نے اسلام قبول نہیں کیا میری کوئی بات نہ مانی بلکہ اپنے ساتھیوں اور لڑکوں کو حضور انور کے پیچھے لگادیاجنہوں نے حضور انور پر پتھر برسائے اور آپ کو زخمی کردیا حتی کہ آپ کے قدم شریف نعلین شریف سے خون کی وجہ سے چپک گئے۔(اشعہ)
۶؎یعنی اس واقعہ سے مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ میں گویا بے ہوش ہوگیا اس حالت میں سامنے کی طرف چل دیا حتی کہ مجھے یہ خبر نہیں کہ میں کہاں جارہا ہوں چلتے چلتے مقام قرن الثعالب پر پہنچ گیا،قرن الثعالب کو قرن المنازل بھی کہتے ہیں یہ جگہ نجد والوں کا میقات ہے وہاں پہنچ کر مجھے اس حالت سے افاقہ ہوا۔
۷؎آسمان کی طرف سے سر اٹھا کر اپنے رب کی رحمت کا انتظار کیا کیونکہ آسمان قبلہ دعا ہے۔
۸؎آج حضرت جبریل حضور کی خدمت میں نئی شان سے حاضر ہوئے کہ بادل سایہ دار اور پہاڑوں کا حاکم فرشتہ ساتھ ہے۔
۹؎اس فرشتہ کا نام اسمٰعیل ہے یہ پہاڑوں کے انتظامات پر مقرر ہے،دنیا کے پہاڑوں پر اس کا راج ہے سارے پہاڑ اس کے زیر فرمان ہیں۔
۱۰؎یعنی پہاڑ تو اس فرشتہ کے زیر فرمان ہیں اور یہ فرشتہ آقا حضور صلی الله علیہ و سلم آپ کے زیر فرمان جو آپ حکم دیں گے وہ یہ فرشتہ کرے گا اور جو یہ حکم دے گا اس پر پہاڑ عمل کریں گے گویا سارے پہاڑ آپ کے خادم ہیں آپ کے قبضہ میں ہیں،یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سلطنت۔آج بعض اولیاء جیسے حضور غوث پاک جہان کے راجہ ہیں اور حضور انور کے زیر فرمان ہیںاللہم صل وسلم وبارك علیہ۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر فرمان درخت،پتھر،پہاڑ،جانور سب ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے پتھروں نے کلمہ پڑھا،چاند پھٹا،بادل برسے۔یہاں حضو صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ شان دکھائی ہے کہ پہاڑوں کا حاکم فرشتہ بھی آپ کے زیر فرمان ہے جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام بلقیس کا تخت خود نہ لائے بلکہ اپنے خادم آصف ابن برخیا سے منگایا جو پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے شام میں لے آئے تاکہ پتہ لگے کہ ان کے آستانہ کے خدام یہ طاقت رکھتے ہیں۔
۱۱؎حضور انور کو یامحمد کہہ کر پکارنا اس آیت کے نزول سے پہلے تھا"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا"اس آیت سے آپ کو صرف نام لے کر پکارنا حرام ہوا یا حضور انور نے اس فرشتہ کے الفاظ کی نقل بامعنی فرمائی اس نے تو رسول الله حبیب اللہ کہہ کر پکارا ہوگا حضور انور نے ان لفظوں سے نقل کی جیسے ایک بڑا عالم کہتا ہے کہ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تو بھی کچھ بول حالانکہ لوگ تو ادب سے عرض کرتے ہیں۔یا لفظ محمد اپنے لغوی معنی میں ہے یعنی تمام مخلوق بلکہ خالق کے سراہے ہوئے سب کے ممدوح سب کی تعریف کیے ہوئے اگر ان بے وقوفوں نے آپ کو نہیں پہنچانا تو آپ غم نہ کریں آپ کو تو ساری خلقت جانتی پہچانتی آپ کی حمد و ثنا کرتی ہے۔بہرحال فرشتے کے اس لفظ کو دیکھ کر ہم حضور کو اس طرح نہیں پکارسکتے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ربیایہا النبی،یایہا الرسول،یایہا المزمل،یایہا المدثرکے پیارے القاب سے پکارتا ہے۔
۱۲؎سبحان الله!رب تعالٰی حضور کا کتنا احترام فرماتا ہے کہ خود عذاب نہیں بھیجتا جیسے دوسرے نبیوں کی امتوں پر عذاب بھیجا بلکہ حضور انور کی اجازت پر معلق رکھا۔
۱۳؎اخشبینتثنیہ ہےاخشبکی بمعنی مضبوط اور بڑا اونچا پہاڑ۔بعض شارحین نے کہا کہ یہ دونوں پہاڑ طائف میں ہیں جن کے بیچ میں طائف واقع ہے،بعض نے کہا کہ مکہ معظمہ و طائف کے درمیان ہیں،بعض نے فرمایا کہ مکہ معظمہ میں ہیں ہوسکتا ہے کہ مکہ معظمہ سے شروع ہوئے اور طائف تک پہنچے ہوں جیسے ہمالیہ پہاڑ کا سلسلہ بہت دور تک چلا گیا ہے۔(از مرقات) مطلب یہ ہے کہ مجھے حکم دیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ملادوں جس سے سارا طائف اس طرح پس جاوے جیسے چکی کے پاٹوں میں دانے پس جاتے ہیں۔
۱۴؎یہ فرمان عالی ایک سوال کے جواب میں ہے،حضور انور نے اس سے منع فرمایا فرشتہ نے بہ ادب اجازت دینے کا اصرار کیا تب حضور انور نے یہ وجہ بیان فرمائی کہ اگرچہ یہ لوگ اسی سزا کے مستحق ہیں مگر وہ وہی ہیں ہم ہم ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں؎الہ العالمین کر رحم طائف کے مکینوں پر الٰہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر
اعدا پہ یہ رحمت صل علی طائف کی فضائیں شاہد ہیں دیتے ہیں دعا سرکار انہیں جو مارنے پتھر آتے ہیں
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ابن عبدیا لیل اسلام لانے حاضر ہوا صحابہ نے خبر دی کہ وہ آتا ہے فرمایا آنے دو وہ آپ کے سامنے بیٹھ کر بہت زار زار رویا اور کبھی آپ کے سامنے سر اونچا نہ کیا آنکھ نہ اٹھائی۔والله ورسولہ اعلم!اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور ان کفار کی اولاد کے حالات سے بھی خبردار ہیں کہ وہ ایمان لائیں گے،چنانچہ وہاں سب ہی مؤمن ہوئے اور اب تک ایک بھی کافر نہیں،نوح علیہ السلام نے بارگاهِ الٰہی میں عرض کیا تھا"وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا"خدایا اب یہ قوم کافر و فاجر ہی جنے گی۔معلوم ہوا کہ پشتہاپشت کے حالات سے خبردار ہیں۔شعر
ملکہ قبل ازدا دن تو سالہا ہم چنیں دانند چنیں حالہا
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5848