Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4158

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلَيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غلامٌ ذَبَحَ شَاةً ولَطَخَ رَأسَهٗ بِدَمِهٖ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كُنَّا نَذْبَحُ الشَّاةَ يَوْمَ السَّابِعِ وَنَحْلِقُ رَأْسَهٗ وَنَلْطَخُهٗ بِزَعْفَرَانٍ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَزَادَ رَزِيْنٌ: وَنُسَمِّيهِ

عن بريدة قال: كنا في الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسه بدمه، فلما جاء الإسلام كنا نذبح الشاة يوم السابع ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران. رواه أبوداود وزاد رزين: ونسميه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم تھے دور جاہلیت میں کہ جب ہم میں سے کسی کے بچہ پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس کے سر کو بکری کے خون سے لتھیڑ دیتا پھر جب اسلام آیا تو ہم ساتویں دن بکری ذبح کرتے تھے اور بچہ کا سر منڈواتے اسے زعفران سے لتھیڑتے ۲؎(ابوداؤد)اور رزین نے زیادہ کیا کہ نام رکھتے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ بریدہ ابن حصیب اسلمی ہیں،غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے،مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے۔
۲
؎یعنی کہ ا سلام میں بچہ کے سر پر بکری کا خون نہیں لیپتے کہ وہ نجس ہے اس کی بجائے زعفران سے بچہ کا سر لیپ دیتے ہیں مگر سر مونڈنے کے بعد۔یوں ہی بعض صوفیاء مرغ کے خون سے بعض تعویذ لکھتے ہیں مگر چاہیے کہ ایسےتعویذ مرغ کے دل کو زعفران و گلاب میں پیس کر لکھے جاویں۔یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے بعد ظہور نبوت اپنا عقیقہ خود کیا۔والله اعلم!عقیقہ کا گوشت اگر کچا تقسیم کردیں تو بھی درست ہے،اگر پکا تقسیم کریں یا کھلا دیں تب بھی درست ہے۔والله و رسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4158