Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4153

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهٖ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمّٰى وَيُحْلَقُ رَأْسُهٗ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لٰكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ» بَدْلَ « مُرْتَهَنٌ » وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِيْ دَاوُدَ: «وَيُدْمّٰى» مَكَانَ: «وَيُسَمّٰى» وَقَالَ أَبُوْدَاوُدَ: «وَيُسَمّٰى» أَصَحُّ

وعن الحسن عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه».رواه أحمد والترمذي وأبوداود والنسائي لكن في روايتهما «رهينة» بدل « مرتهن » وفي رواية لأحمد وأبي داود: «ويدمى» مكان: «ويسمى» وقال أبوداود: «ويسمى» أصح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہوتا ہے۲؎ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور نام رکھا جائے اس کا سر مونڈا جائے ۳؎احمد،ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔لیکن ان دونوں کی روایت میں بجائے مرتہن کے رھینہ ۴؎ہے اور احمد و داؤد کی روایت میں نام رکھنے کی بجائے ہے کہ خون سے لتھیڑ دیا جائے ۵؎ابوداؤد نے کہایسمّیزیادہ صحیح ہے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎خواجہ حسن بصری تابعی ہیں اور حضرت سمرہ ابن جندب صحابی ہیں،ان صحابی کا آخری زمانہ میں قیام بصرہ میں رہا،آپ سے خواجہ حسن بصری اور ابن سیرین وغیرہ جلیل القدر تابعین نے روایات لیں،آپ کے حالات بارہا بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲
؎یعنی بچہ دنیاوی آفات و مصیبتوں کے ہاتھوں میں ایسا گرفتار ہوتا ہے جیسے گرو چیز قرض کے قبضہ میں قید ہوتی ہے کہ اس سے مالک نفع حاصل نہیں کرسکتا یا مطلب یہ ہے کہ بچہ کی شفاعت اپنے باپ وغیرہم کے لیے عقیقہ پر موقوف ہے کہ اگر بغیر عقیقہ فوت ہوگیا تو ممکن ہے کہ ماں باپ کی شفاعت نہ کرے۔(مرقات) خیال رہے کہ یہاں مرتہن بمعنی رہین یا مرہون ہے۔
۳
؎یعنی بچہ کی ولادت کے ساتویں دن یہ تین کام کیے جائیں: اس کا نام رکھنا،سرمنڈوانا استرے سے اورجانور ذبح کرنا سنت یہ ہی ہے اور اگر ساتویں دن نہ ہوسکے تو پندرھویں دن یا جب کبھی بھی عقیقہ ہوسکے تو ساتویں دن کا حساب لگایا جائے کہ جب بھی عقیقہ کیاجائے اس کی پیدائش سے ایک دن پہلے کیا جائے مثلًا اگر بچہ جمعہ کے دن پیدا ہوا ہے تو جب بھی عقیقہ کیا جائے جمعرات کو کیا جائے۔
۴
؎مرتہن اور رہینہ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں صرف لفظ کا فرق ہے۔
۵
؎یعنی بچہ کے سر پر ذبیحہ کا خون مل دیا جائے۔
۶
؎لہذا سنت یہ ہے کہ بچہ کے سر پر بجائے خون کے زعفران ملا جائے کیونکہ خون نجس ہے اور بدبودار بھی اور زعفران پاک ہے اور خوشبودار بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4153