Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4157

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بِنِ عَلِيِّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

وعن أبي رافع قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة. رواه الترمذي وأبوداود. وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حسن ابن علی کے کان میں نماز کی اذان کہی جب کہ انہیں جناب فاطمہ نے جنا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حسن کی ولادت کے وقت ان کے کان میں بعینہ وہی اذان کہی جو اذان نماز کے لیے کہی جاتی ہے۔حضرت حسن ابن علی رضی الله عنہ سے مرفوعًا مروی ہے کہ جس بچہ کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے تو اسےان شاءاللهام الصبیان کی بیماری نہیں ہوتی۔(مسند ابویعلی موصلی و مرقات)حضرت عمر بن عبد العزیز یہ ہی عمل کرتے تھے،یہ سنت ہے۔(مرقاۃ) اس سے بچہ کے کان میں پہلی آواز الله کے نام کی پہنچتی ہے،نیز اذان کی آواز سے شیطان بھاگتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)اس سے معلوم ہوا کہ اذان صرف نماز کے لیے نہیں ہے اور موقعہ پربھی سنت ہے اس لیے بعد دفن قبر پر اذان دی جاتی ہے،اذان کے مواقع ہمباب الاذانمیں بیان کرچکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4157