Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4151

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ: فَوَلَدْتُّ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهٖ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهٗ فِي حِجْرِهٖ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ ثُمَّ حَنَّكَهٗ ثُمَّ دَعَا لَهٗ وَبَرَّكَعَلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسماء بنت أبي بكر أنها حملت بعبد الله بن الزبير بمكة قالت: فولدت بقباء ثم أتيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره ثم دعا بتمرة فمضغها ثم تفل في فيه ثم حنكه ثم دعا له وبركعليه فكان أول مولود ولد في الإسلام(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے کہ وہ مکہ معظمہ میں عبدالله ابن زبیر کی حاملہ ہوئیں فرماتی ہیں کہ قبا میں میرے ہاں ولادت ہوئی ۱؎پھر میں انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لائی اور حضور کی گود میں رکھا آپ نے چھوہارا منگایا اسے چبایا پھر ان کے منہ میں تھوک دیا پھر ان کی تحنیک کی۲؎پھر ان کے لیے برکت کی دعا مانگی اور یہ اسلام میں پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت اسماء جناب صدیق اکبر کی صاحبزادی اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی بہن ہیں،حضرت زبیر ابن عوام کے نکاح میں تھیں،عبدالله بن زبیر جو مشہور صحابی ہیں ان کی والدہ ماجدہ ہی فرماتی ہیں کہ میں عبدالله بن زبیر کی حاملہ تو ہوچکی تھی قبل ہجرت مگر ان کی ولادت بعد ہجرت مقام قباء میں ہوئی،قباء ایک بستی تھی مدینہ منورہ سے متصل اب وہاں مسجد قباء تو ہے مگر وہ محلہ آباد نہیں،عبد الله ابن زبیر اسلام میں پہلے وہ بچہ ہیں جو مہاجرین کے گھر پیدا ہوئے۔
۲
؎یعنی اولًا لعاب دہن سے مخلوط چھوہارا ان کے منہ میں ڈالا پھر اسے ان کے تالو سے مل دیا لہذا عبارات میں تکرار نہیں۔
۳
؎یعنی مہاجر گھرانوں میں پہلے آپ پیدا ہوئے ورنہ ان سے پہلے انصار کے گھر نعمان ابن بشیر پیدا ہوئے، مدینہ میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہود مدینہ نے مسلمان مہاجروں پر جادو کردیا ہے کسی مہاجر کے اولاد نہ ہوگی،آپ کی پیدائش سے مسلمانوں کو بہت ہی خوشی ہوئی کہ لوگوں کا یہ خیال باطل ہوگیا۔۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4151