Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4152

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلٰى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا». رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ ولِلتِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيّ مِنْ قَوْلِهٖ: يَقُولُ:«عَنِ الْغُلَام» إِلٰى آخِرِهٖ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِيْحٌ

عن أم كرز قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أقروا الطير على مكناتها» . قالت: وسمعته يقول: «عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة ولا يضركم ذكرانا كن أو إناثا». رواه أبوداود وللترمذي والنسائي من قوله: يقول:«عن الغلام» إلى آخره وقال الترمذي : هذا حدیث صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام کرز سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رکھو ۲؎فرماتی ہیں میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۳؎تمہیں مضر نہیں کہ نر ہوں یا مادہ ۴؎(ابوداؤد،ترمذی)اور نسائی نے یہاں سے روایت کیعن الغلام،الخ اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی خزاعہ کے خاندان کعب سے ہیں،مکہ معظمہ کی رہنے والی ہیں۔
۲
؎مکنہچڑیوں کا وہ مکان جو وہ تنکوں وغیرہ سے بنالیتی ہیں وہاں ہی رہتی بستی ہیں،وہاں ہی انڈے دیتی ہیں۔اہلِ عرب پرندوں کو فال لینے کے لیے ان کے گھونسلوں سے اڑادیتے تھے کہ اسے ششکاری دی اگر وہ داہنی طرف اڑ گیا تو سمجھے ہم کامیاب ہوں گے اگر بائیں طرف اڑا تو سمجھو ہم ناکام ہوں گے یہاں اس سے منع فرمایا جارہا ہے۔
۳
؎غالب یہ ہے کہ یہ جملہ مستقل دوسری حدیث ہے پہلی حدیث کا تتمہ نہیں۔
۴
؎یعنی یہ ضروری نہیں کہ لڑکے کے عقیقہ کے لیے نر بکرے چاہئیں اور لڑکی کے عقیقہ کے لیے مادہ بکری ضروری ہے بلکہ لڑکے کے لیے مادہ مؤنث بکری اور لڑکی کے عقیقہ کے لیے نر بکرے بھی ذبح کئے جاسکتے ہیں،یہ بھی درست ہے کہ لڑکے کے لیے ایک نر بکرا اور دوسری مادہ بکری ذبح کردی جائے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہشاۃنر اور مادہ دونوں پر بولا جاتا ہے لہذا یہ عبارتذکراناکن او اناثابالکل درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4152