Main Icon

باب:عقیقہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4156

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْعُقُوقَ» كَأَنَّهٗ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهٗ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة فقال: «لا يحب الله العقوق» كأنه كره الاسم وقال: «من ولد له ولد فأحب أن ينسك عنه فلينسك عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة» . رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا الله عقوق کو پسند نہیں کرتا شاید حضور نے یہ نام ناپسند کیا ۲؎اور فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو پھر وہ چاہے کہ اس کی طرف سے جانور دے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یا تویہ پوچھا کہ عقیقہ کرنا واجب ہے یا سنت یا مستحب یا یہ پوچھا کہ اسے عقیقہ کہنا کیسا ہے یعنی اسم یا مسمی کے متعلق دریافت کیا۔
۲
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ جن احادیث میں لفظعقیقہآیا ہے وہ ممانعت سے پہلے کی ہیں اور یہ حدیث ان کی ناسخ ہے،بعض نے اس کے برعکس کہا ہے کہ یہ حدیث ممانعت منسوخ ہے اور وہ احادیث ناسخ ہیں۔ فقیر کے نزدیک دوسرا قول زیادہ قوی ہے اور لفظعقیقہبولنا بلاکراہت جائزہے۔اس جملہ پاک کا مطلب یہ ہے کہ عقیقہ میں شبہ ہوتا ہے کہ یہ لفظعقوقسے بنا ہو جس کے معنی ہیں والدین کی نافرمانی اور ناحق شناسی لہذا اس کا نام عقیقہ مت رکھو۔
۳
؎یعنی اس عمل کو عقیقہ نہ کہو بلکہ نسیکہ کہو کہ اسمیں فاسد معنی کا احتمال نہیں۔یہاں تصریح ہوگئی کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں چاہئیں اور لڑکی کی طرف سے ایک ،یہ ہی سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4156