Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4605

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَمْسَكَ اللّٰهُ الْقَطْرَ عَنْ عِبَادِهٖ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهٗ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو أمسك الله القطر عن عباده خمس سنين ثم أرسله لأصبحت طائفة من الناس كافرين يقولون: سقينا بنوء المجدح ". رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو سعید سے،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر اللہ اپنے بندوں سے پانچ سال بارش روک لے پھر بھیجے ۱∞؎تب بھی لوگوں کا ایک ٹولہ کافر ہی ہو کہ وہ کہیں کہ ہم برج مجدح کی وجہ سے برسائے گئے ۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎پانچ سال کا ذکر بطور مثال ہے اس سے مقصود دراز مدت ہے یعنی اگر دراز مدت اور بہت انتظار کے بعد بھی بارش آوے تب بھی شکر نہیں کرتے کفر ہی کرتے ہیں۔
۲
؎مجدحمیم کے کسرہ سے چاند کی ایک خاص منزل کا نام ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ جب چاند اس میں داخل ہوتا ہے تو ضرور بارش آتی ہے۔بعض نے فرمایا کہمجدحتین تاروں کا نام ہے جن کے متعلق عرب کا عقیدہ تھا کہ بارش ان سے ہوتی ہے۔(اشعہ مرقات)جدح کہتے ہیں ستو گوندھنے کو ان تاروں کی شکل و ترتیب ایسی واقع ہے۔جیسے کوئی بیٹھا ہوا ستو گوندھ رہا ہے اس لیے انہیںمجدحکہتے ہیں۔جیسے عقرب قوس وغیرہ منزل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4605