Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4598

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد . رواه أحمد وأبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا ۱∞؎جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔
۲
؎یعنی جس قدر علوم نجوم میں زیادتی کرے گا۔اس قدر گویا جادو میں زیادتی کرے گا اپنے گناہ بڑھائے گا۔لہذا دونوں جگہزادبمعنی ماضی ہے اورمازادمیںمابمعنیمادامہے بعض شارحین نے فرمایا کہزاد مازادحضرت عبداللہ ابن عباس کا قول ہے اورزادکا فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حضور نے علم نجوم کی برائی میں بہت زیادتی فرمائی لہذا مازاد مفعول ہےزادکا۔(اشعہ اللمعات)پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ تاروں سے بارش کا وقت،آندھیاں چلنا سردی گرمی،ارزانی گرانی آیندہ کے حالات معلوم کرنا حرام ہے کہ یہ علوم غیبیہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر ان سے اوقات اور راستے،سمت قبلہ معلوم کرنا بالکل حق ہے۔چاند کے طلوع کی خبر جو بذریعہ تاروں کے دی جائے شرعًا معتبر نہیں حضرت فرماتے ہیں کہ علم نجوم اس قدر حاصل کرو جس سے تم سمت قبلہ اورر استے معلوم کرلو پھر باز رہو(مرقات)لہذا علم توقیت برحق ہے۔یوں ہی علم ریاضی ، علم ہیئت وغیرہ درست ہے اپنی حد میں رہ کر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4598