Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4596

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكُمْ؟» قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ،قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِكَوْاكَبَ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤمِنٌ بِكَوْاكَبَ"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن زيد بن خالد الجهني قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية على أثر سماء كانت من الليل فلما انصرف أقبل على الناس فقال: «هل تدرون ماذا قال ربكم؟» قالوا: الله ورسوله أعلم،قال: أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر فأما من قال: مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي كافر بكواكب وأما من قال: مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي ومؤمن بكواكب"(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی ۱∞؎جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و منکر نے صبح پائی ۲؎جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری ۳؎لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی ۴؎تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا۔حدبیبہ ایک جنگل ہے جدہ اور مکہ معظمہ کے درمیان بحیرہ منزل سے دور مکہ معظمہ سے قریب اس کا کچھ حصہ حل میں ہے کچھ حصہ حرم میں یہاں بیعت رضوان ہوئی بڑا مقدس جنگل ہے ہم نے اس کی زیارت کی ہے۔
۲
؎یعنی رب تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بارش کی وجہ سے بعض بندے مؤمن رہے بعض کافر ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ جو کلام فرشتوں سے فرماتا ہےحضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف فرما ہوتے ہوئے اسے سنتے ہیں جو رب کی سن سکتے ہیں وہ مخلوق کی بھی سن سکتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم
۳
؎یعنی وہ ستاروں کومؤثر نہیں مانتے۔خیال رہے کہ ستاروں کو بعض چیزوں کی علامات ماننا درست ہے رب تعالیٰ فرماتاہے: "وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"مگر انہیں مؤثر ماننا حرام یا کفر ہے ستاروں سے وقت،سمت،آفتاب کا طلوع و غروب معلوم کرلیا جاتا ہے۔
۴
؎یعنی فلاں تارہ فلاں برج میں پہنچا لہذا بارش ہوئی اس کے تاثیر سے بادل اور برسا یہ کہنا حرام بلکہ بعض معانی سے کفر ہے۔ خیال رہے کہ ستاروں کو فاعل مدبر ماننا کفر ہے انہیں بارش کی علامت ماننا اگرچہ کفر نہیں مگر یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ فلاں تارے سے یہ بارش ہوئی کہ اس میں کفار کے عقیدے کا اظہار ہے اور ناشکری کے الفاظ ہیں۔اس لیے بعض روایت میں ہے۔اصبح من الناس شاکرًا و کافرًا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4596