Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4597

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ يُنَزِّلُ اللّٰهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ: بِكَوْكَبٍ كَذَا وَكَذَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"ما أنزل الله من السماء من بركة إلا أصبح فريق من الناس بها كافرين ينزل الله الغيث فيقولون: بكوكب كذا وكذا ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی رحمت نہیں اتارتا ۱∞؎مگر اس کی وجہ سے لوگوں کا ایک گروہ کافر ہوجاتا ہے۔اللہ بارش اتارتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا برکت سے مراد بارش ہےمن السماءکے معنی ہیں آسمان کی طرف سے آنا کیونکہ بارش آسمان سے نہیں آتی بادل سے آتی ہے ہاں آسمان کی طرف یعنی بلندی سے آتی ہے۔رب تعالیٰ بارش کے متعلق فرماتا ہے:"وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا"اور ممکن ہے کہ برکت سے مراد عام نعمت ہو بارش ہوا،سورج چاند تاروں کی روشنی وغیرہ مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎یعنی فلاں تارے کے طلوع فلاں تارے کے غروب سے یا فلاں تارے کے فلاں برج میں جانے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ خیال رہے کہ تاروں کو مؤثر حقیقی ماننا کفر ہے انہیں علامات مان کر یہ بات کہنا کفر نہیں مگر پھر بھی اچھا نہیں کہ اس سے عوام کے عقیدے بگڑنے کا اندیشہ ہے لہذا یہاں کافرین سے مراد یا اعتقادی کافر ہیں یا ناشکرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4597