Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4599

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَتٰى كَاهِنًا فَصَدَّقَهٗ بِمَا يَقُولُ أَوْ أَتٰى امْرَأَتَهٗ حَائِضًا أَو أَتٰى امْرَأَتَهٗ مِنْ دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتى كاهنا فصدقه بما يقول أو أتى امرأته حائضا أو أتى امرأته من دبرها فقد برئ مما أنزل على محمد . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ کاہن کے پاس جائے ۱∞؎پھر اس کی تصدیق کرے یا اپنی بیوی کے پاس بحالت حیض جائے یا اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جاوے تو وہ اس سے بری ہوگیا جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ۲؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کاہن و عراف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ جو آئندہ کی خبریں دے عراف وہ جو موجود چھپی خبریں بتائے کہ تمہاری چوری فلاں نے کی ہے فلاں چیز فلاں جگہ رکھی ہے۔
۲
؎بحالت حیض یا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے اس کا حلال جاننے والا کافر ہے وطی بحالت حیض کی حرمت تو نص قرانی سے ثابت ہے فرماتاہے:"لَا تَقْرَبُوۡھُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ"اور فرماتاہے:"قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"مگر دبر میں صحبت کی حرمت احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور اشارۃً قرآن سے بھی اور وطی بحالت حیض کی حرمت پر قیاس کی وجہ سے بھی یہ قیاس قطعی ہے لہذا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے جو حرام جان کر ایسی حرکت کرے وہ سخت بدکار گنہگار ہے۔ اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں ملاحظہ فرماؤ۔خیال رہے کہ لڑکوں سے دبر میں صحبت کرناصریحی قطعی نص سے حرام ہے قوم لوط پر اسی وجہ سے عذاب آیا اور عورت سے دبر میں صحبت قیاس قرآنی سے حرام یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔لہذا اصول فقہ والوں کا اسے قیاس شرعی سے حرام فرمانا بالکل درست ہے جیسا کہ نور الانوار اور توضیح تلویح وغیرہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4599