Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4595

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتٰى عَرَّافًا فَسَأَلَهٗ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن حفصة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل صلاة أربعين ليلة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کوئی نجومی کے پاس گیا ۱∞؎پھر اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس شب کی نمازیں قبول نہ ہوں گی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اسے سچا سمجھ کر اس سے آیندہ غیبی خبریں پوچھنے کے لیے گیا اس کی وہ سزا ہے جو یہاں مذکور ہے لیکن اگر کوئی اسے جھوٹا سمجھ کر لوگوں کو اس کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لیے اس کے پاس گیا اس سے کچھ پوچھا تاکہ اس کی جھوٹی خبر لوگوں کو سنادے اس کی یہ سزانہیں۔
۲
؎یعنی اس کی یہ نمازیں ادا ہوجائیں گی اللہ کے ہاں ان کا ثواب نہ ملے گا جیسے غصب شدہ زمین میں نماز کہ اگرچہ ادا تو ہوجاتی ہے مگر اس پر ثواب نہیں ملتا لہذا ان نمازوں کا لوٹانا اس پر لازم نہیں ۔خیال رہے کہ نیکیوں سے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں۔مگر گناہوں سے نیکیاں برباد نہیں ہوتیں وہ تو صرف ارتداد سے برباد ہوتیں ہیں(مرقات)اور جب نمازیں ہی قبول نہ ہوئیں تو دوسری عبادتیں بھی قبول نہ ہوں گی بعض شارحین نے فرمایا کہ چالیس راتوں کی نمازیں سے مراد تہجد کی نمازیں ہیں۔فرائض و واجبات قبول ہوجائیں گے مگر حق یہ ہے راتوں سے مراد دن و رات سب ہیں اورکوئی نماز قبول نہیں ہوتی (اشعہ)دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوتی بہرحال نجومیوں سے غیب کی خبریں پوچھنا بدترین گناہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4595