Main Icon

باب:کہانت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4594

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّماءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَتُسْمِعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الملائكة تنزل في العنان وهو السحاب فتذكر الأمر قضي في السماء فتسترق الشياطين السمع فتسمعه فتوحيه إلى الكهان فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فرشتے عنان میں اترتے ہیں عنان بادل ہے ۱∞؎تو وہ ان واقعات کاذکر کرتے ہیں جن کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ۲؎تو شیاطین چوری سے سنتے ہیں یہ سن کر کاہنوں کو خبر دیتے ہیں ا ن کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملادیتے ہیں ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عنانکی تفسیر بادل سے یا تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی یا کسی راوی نے بادل سے مراد یا تو آسمان دنیا یا جو یعنی آسمان و زمین کے درمیان کی فضا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب بادل نہ ہوں تو فرشتے کہاں اوترتے ہیں۔ (مرقات و اشعہ)۲؎یعنی فرشتوں کا مقام آسمان ہے وہاں ان کو احکام الہیہ واقعات عالم کی اطلاع پہنچتی ہے پھر فرشتے آسمان سے اتر کرفضا میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہاں آپس میں ایک دوسرے سے ان غیبی واقعات کا ذکر کرتے ہیں یہاں شیاطین چوروں کی طرح چھپ کر سن لیتے ہیں۔
۳
؎یعنی یہ شیاطین اگر ایک ہونے والی بات فرشتوں سے سنتے ہیں تو سو جھوٹی باتیں ملا کر ایک سو ایک باتیں اپنے کاہنوں کو سنا جاتے ہیں یہ سو باتیں جھوٹی ہوتی ہیں وہ ایک بات سچی ہوتی ہے لوگ اس ایک بات سچی کی سچائی دیکھ کر کاہنوں کو سچا سمجھ لیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4594