Main Icon

باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3974

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطِيَّةَ القَرَظِيَّ قَالَ: كُنْتُ فِي سَبْي قُرَيْظَةَ، عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوْا يَنْظُرُوْنَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعَرَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ، فَكَشَفُوْا عَانَتِي فَوَجَدُوْهَا لَمْ تُنْبِتْ، فَجَعَلُوْنِي فِي السَّبْي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن عطية القرظي قال: كنت في سبي قريظة، عرضنا على النبي صلى الله عليه وسلم، فكانوا ينظرون فمن أنبت الشعر قتل، ومن لم ينبت لم يقتل، فكشفوا عانتي فوجدوها لم تنبت، فجعلوني في السبي. رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطیہ قرظی سے فرماتے ہیں کہ میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا ۱؎ہم سب نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر پیش کیے گئے تو معائنہ کیے جاتے تھے جس کے بال اگ گئے تھے وہ قتل کردیا گیا اور جس کے نہ اگے تھے وہ قتل نہ کیا گیا چنانچہ میرا زیر ناف بدن بھی کھولا تو محسوس کیا کہ نہ اُگے تھے تو مجھے قیدیوں میں کر دیا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری قوم بنی قریظہ کے جوان بوڑھے تو سارے قتل کردیئے گئے بچے چھوڑ دیئے گئے ،جن کے جوان ہونے کا شبہ تھا ان کی تحقیق کی گئی میں اس تیسری جماعت میں تھا۔خیال رہے کہ یہ عطیہ ہیں تو صحابی مگر نہ ان کا پورا نام معلوم ہوسکا نہ ان کے باپ کا نہ حالات کا پتہ چلا۔
۲
؎خیال رہے کہ بچے کے بلوغ کی علامت احتلام ہے اور زیر ناف بال آجانا،چونکہ یہ لوگ قتل کے خوف سے احتلام کے متعلق غلط خبر دے دیتے اس لیے زیر ناف کے بال دیکھے گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3974