- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3963
باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3963
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُوْ قُرَيْظَةَ عَلٰى حُكْم سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِليه، فَجَاءَ عَلٰى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُوْمُوْا إِلَى سَيِّدِكُمْ"، فَجَاءَ فَجَلَسَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ هَؤُلَاءَ نَزَلُوْا عَلٰى حُكْمِكَ". قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ. قَالَ: "لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بحُكْم المَلِكِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "بِحُكْم اللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي سعيد الخدري قال: لما نزلت بنو قريظة على حكم سعد بن معاذ، بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إليه، فجاء على حمار فلما دنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قوموا إلى سيدكم"، فجاء فجلس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن هؤلاء نزلوا على حكمك". قال: فإني أحكم أن تقتل المقاتلة وأن تسبى الذرية. قال: "لقد حكمت فيهم بحكم الملك". وفي رواية: "بحكم الله". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب بنی قریظہ نے حضرت سعد ابن معاذ کے حکم پر اترنا چاہا ۱؎تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا تو وہ گدھے پر سوار آئے ۲؎جب قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے سردار کی طرف اٹھو چلو۳؎چنانچہ وہ آئے بیٹھ گئے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارے حکم پر اتر رہے ہیں۴؎فرمایا کہ میں تو حکم دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کردیئے جائیں اور بچے قید کرلیے جائیں ۵؎فرمایا تم نے ان کے متعلق فرشتے کا حکم دیا ۶؎اور ایک روایت میں ہےﷲکا حکم دیا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ واقعہ شوال ۵ھ ∞ پانچ ہجری کا ہے کہ یہود مدینہ بنی قریظہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں سے بد عہدی کرکے مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا جس کی وجہ سے غزوہ احزاب یعنی خندق کا واقعہ پیش آیا،ﷲتعالٰی نے ان سب کفار کی تمام تدبیروں کو ایک آندھی کے ذریعہ ختم فرمادیا۔مسلمانوں نے غزوہ خندق سے فارغ ہوکر بحکم خداوندی ان بدعہد یہودیوں بنی قریظہ کا محلہ گھیر لیا۔یہ لوگ پچیس دن اپنے قلعوں میں محصور رہ کر تنگ آگئے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم حضرت سعد ابن معاذ کے فیصلہ پر راضی ہیں وہ ہمارے متعلق جو فیصلہ کریں ہم کو منظور ہے۔حضور نے بھی ان کی یہ درخواست قبول فرمالی،چونکہ حضرت سعد ابن معاذ قبیلہ اوس کے سردار تھے اور بنی قریظہ اس کے حلیف تھے زمانہ جاہلیت میں اس لیے انہیں یقین تھا کہ حضرت سعد ہمارے حلیف ہونے کا لحاظ کرکے ہم پر نرمی کریں گے اس لیے وہ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوئے مگر فیصلہ وہ ہوا جو آگے آرہا ہے۔
۲؎آپ غزوہ خندق میں زخمی ہوگئے تھے بیمار تھے اس لیے سواری پر حاضر ہوئے،آپ کہیں دور سے نہ آئے تھے اپنے گھر سے ہی آئے تھے جو مدینہ منورہ میں تھا۔(مرقات)
۳؎اس میں خطاب ان انصار سے ہے جو حاضر بارگاہ تھے یا سارے حاضرین سے یعنی اپنے ان سردار کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور ان کے استقبال و پیشوائی کے لیے جاؤ،ابھی حضرت سعد کا خچر دور ہی تھا تب یہ حکم صادر ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی آمد پر ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا ان کا استقبال کرنا سنت ہے۔جن احادیث میں تعظیمی قیام سے منع فرمایا گیا ہے وہ وہ ہے کہ سردار بیٹھا ہو اور لوگ اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں یہ ہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔(مرقات و اشعہ)بعض نے کہا کہ یہ قیام تعظیمی نہ تھا بلکہ حضرت سعد بیمار تھے خود اتر کر نہ آسکتے تھےان کی مدد کے لیے یہ حکم دیا گیا اس لیے یہاںلامنہ فرمایاالیٰارشاد ہوا مگر یہ توجیہ کمزور ہے ورنہ صرف ایک دو آدمیوں کو انہیں اتارنے کے لیے بھیج دیا جاتا سب کو یہ حکم نہ ہوتا۔قومواجمع ہے نیز پھرسیدکمنہ فرمایا جاتا بلکہمریضکمارشاد ہوتا۔سیدکمفرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیام سرداری کی وجہ سے تھا نہ کہ بیماری کی وجہ سے،چونکہ قیام کے ساتھ استقبال کے لیے آگے بھیجنا بھی تھا اس لیےالیٰارشاد ہوا۔قیام تعظیمی کی پوری بحث ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں دیکھو اوران شاءاﷲاس کتاب میںباب القیاممیں آوے گی۔
۴؎یعنی تمہارے فیصلہ پر یہ بنی قریظہ راضی ہیں اور ہم کو بھی منظور ہے لہذا تم فیصلہ کرو۔معلوم ہوا کہ کسی کو پنچ مقررکرنا اس سے فیصلہ کرانا سنت سے ثابت ہے۔
۵؎جنگجو سے مراد مطلقًا جوان مرد ہیں خواہ جنگ کرتے ہوں یا کراتے ہوں یا رائے دیتے ہوں اورذریۃسے مراد چھوٹے بچے عورتیں ہیں جنہیں جنگ سے کوئی تعلق نہ ہو۔(مرقات)خیال رہے کہ ان یہود مدینہ اور کفار و مشرکین میں یہ طے ہوا تھا کہ مشرکین تو باہر سے مدینہ کے مسلمانوں پر حملہ کریں اور ہم اندرون مدینہ مسلمانوں کو ماریں اور مسلمانوں کو ایسا کچل دیں جیسے چکی میں دانہ اس لیے ان کے جوانوں کو مقاتلہ فرمایا گیا۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ غزوہ احزاب میں باقاعدہ قتال ہوا ہی نہ تھا،مشرکین تو خندق دیکھ کر حیران رہ گئے یہود مدینہ ان کی رکاوٹ و حیرانی کی وجہ سے باقاعدہ جنگ نہ کرسکے۔
۶؎فرشتہ سے مراد یا تو جبریل علیہ السلام ہیں یا وہ فرشتہ جو مؤمن کے دل میں بطور الہام اچھے خیالات پیدا کرتا ہے۔
۷؎یعنی تم نے ایسا حکم دیا جس سےﷲراضی ہے یاﷲتعالٰی نے بذریعہ فرشتہ تمہارے دل میں یہ حکم ڈالا اور تم نے سنایا۔زبان تمہاری ہے فیصلہ رب کا ہے۔سبحان اﷲ!کیسی شان ہے حضرت سعد کی رضی اللہ عنہ۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑے اہم فیصلوں میں بھی حکم(پنچ)بنانا جائز ہے اور پنچ کے فیصلہ پر فریقین کو راضی ہونا پڑے گا،پنچ کے فیصلہ کی اپیل نہیں۔سلطان بھی اپنا پنچ بناسکتا ہے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3963