Main Icon

باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3965

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ: "لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن جبير بن مطعم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في أسارى بدر: "لو كان المطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هؤلاء النتنى لتركتهم له". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم ابن عدی زندہ ہوتے پھر وہ مجھ سے ان گندوں کے متعلق گفتگو کرتے تو ان کی وجہ سے میں انہیں چھوڑ دیتا۔(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جبیر ابن معطم ابن عدی نوفل ابن عبدمناف ہیں،کنیت ابومحمد ہے،فتح مکہ یا خیبر کے دن ایمان لائے، بڑے شاعرنسبوں کے عالم سردار قوم تھے،حضرت ابوبکر صدیق کے شاگرد تھے، ۵۴ھ؁ ∞ چوّن میں وفات پائی، آپ نے یہ حدیث زمانہ کفر میں سنی تھی اور بعد اسلام روایت کی۔مطعم سے مراد جبیر ابن مطعم کے والد ہیں۔ان گندوں سے مراد یا تو بدر میں مقتولین کفار ہیں کہ وہ کفر پر مرے یا بدر کے قیدی کہ وہ اس وقت گندگی کفر میں تھے۔خیال رہے کہ مطعم ابن عدی نے طائف میں کفار طائف کو حضور سے ہٹایا تھا اور حضور کی زبردست حمایت کی تھی،فرمایا کہ اے جبیرتمہارے والد کا مجھ پر احسان ہے اگر آج وہ زندہ ہوتے اور ان کفار کی سفارش کرتے تو ان کی سفارش پر میں ان سب کو بغیر معاوضہ چھوڑ دیتا۔خیال رہے کہ شروع اسلام میں کفار قیدیوں کو احسان کرکے چھوڑ دینا جائز تھا،پھر منسوخ ہوگیا یہ ہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ مالک وا حمد کا،امام شافعی کے ہاں اب بھی جائز ہے ان کی دلیل آیۃ کریمہ ہے اور یہ حدیث ہے،ہمارے ہاں یہ دونوں اس آیت سے منسوخ ہیں"قٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً"۔(دیکھو فتح القدیر اور مرقات وغیرہ)حضرت جبیر بطور فخر یہ روایت کررہے ہیں کہ حضور نے میرے والد کی ایسی عزت افزائی کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3965