- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3968
باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3968
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهٗ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ، وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ: "فَاخْتَارُوْا إِحْدَى الطَّائِفتيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ" قَالُوْا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللّٰهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهٗ،ثُمَّ قَالَ: "أمَّا بعدُ! فإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاؤُوْا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذٰلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَن أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُوْنَ عَلٰى حَظِّهٖ حتّٰى نُعطِيَه إِيَّاهُ منْ أوَّلِ مَا يَفِيءُ اللّٰهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ" فَقَالَ النَّاسُ: قد طَيَّبْنَا ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَن، فَارْجِعُوْا حتّٰى يَرْفَعَ إِلَيْنَاعُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبوا وَأَذِنُوْا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن مروان والمسور بن مخرمة:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسألوه أن يرد إليهم أموالهم، وسبيهم فقال: "فاختاروا إحدى الطائفتين: إما السبي وإما المال" قالوا: فإنا نختار سبينا. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأثنى على الله بما هو أهله،ثم قال: "أما بعد! فإن إخوانكم قد جاؤوا تائبين، وإني قد رأيت أن أرد إليهم سبيهم، فمن أحب منكم أن يطيب ذلك فليفعل، ومن أحب منكم أن يكون على حظه حتى نعطيه إياه من أول ما يفيء الله علينا فليفعل" فقال الناس: قد طيبنا ذلك يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنا لا ندري من أذن منكم ممن لم يأذن، فارجعوا حتى يرفع إليناعرفاؤكم أمركم". فرجع الناس فكلمهم عرفاؤهم، ثم رجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه أنهم قد طيبوا وأذنوا. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے مروان ۱؎اور حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۲؎کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا جب کہ حضور کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا۳؎تو انہوں نے حضور سے سوال کیا انہیں ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۴؎تو فرمایا کہ تم لوگ ان دو میں سے ایک کو اختیارکرلو یا قیدی یا مال تو وہ بولے کہ ہم اپنے قیدی اختیارکرتے ہیں۵؎تب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایاﷲکی وہ تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا کہ بعد حمد تمہارے بھائی توبہ کرتے ہوئے آئے ہیں ۶؎میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں ۷؎تو تم میں سے جو پسندکرے کہ بخوشی یہ کرے تو وہ کرے ۸؎اور تم میں سے جو اپنے حصہ پر رہنا چاہے حتی کہ اس میں سے عطا فرمائیں جوﷲہمیں غنیمت دے تو وہ یوں کرے ۹؎تب لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم )ہم نے بخوشی قبول کرلیا ۱۰؎تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم کو تم میں سے اجازت دینے والوں کا پتہ نہ چلا ان میں سے جنہوں نے اجازت نہ دی ۱۱؎تو تم واپس جاؤ حتی کہ تمہارے سردار تمہارا ارادہ ہم تک پہنچادیں۱۲؎تب لوگ لوٹ گئے پھر ان سے ان کے سردار نے گفتگو کی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے خبر دی کہ ان سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی۱۳؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ان کا نام مروان ابن حکم ابن ابوالعاص ابن امیہ ابن عبدشمس ابن عبدمناف ہے، ۲ھ ∞ یا خندق کے سال پیدائش ہے حضور کی زیارت نہ کی کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے باپ حکم کو ایک جرم کی بنا پر مدینہ سے نکال کر طائف بھیج دیا،مروان اس کے ساتھ تھا عہد عثمانی میں حکم کو مدینہ منورہ آنے کی اجازت ملی تب یہ ا پنے باپ کے ساتھ مدینہ منورہ آیا،اس کی کنیت عبدالملک ہے،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،معاویہ ابن یزید کے بعدتخت سلطنت پر قابض ہوا، ۶۵ھ ∞ پینسٹھ میں دمشق میں وفات پائی،تابعی ہیں، حضرت عثمان و علی سے احادیث لیں اور اس سے حضرت عروہ ابن زبیر اور علی ابن حسین یعنی امام زین العابدین نے احادیث روایت کیں۔خیال رہے کہ حضرت عثمان کا حکم اور مروان کو مدینہ منورہ واپس بلانا سچی توبہ کی بنا پر تھا اور درست تھا اس لیے حضرت علی نے اپنے دور خلافت میں اس کو مدینہ منورہ سے نہ نکالا بلکہ حضرت عثمان کے واپس بلانے کو قائم رکھا،اگر حضرت عثمان پر اعتراض کیا جاوے تو جناب علی مرتضٰی پر بھی اعتراض ہوگا۔
۲؎آپ زہری قرشی ہیں،حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بھانجہ ہیں،ہجرت کے دو سال بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،حضور کی وفات کے وقت آپ آٹھ سال کے تھے،قتل عثمان تک مدینہ منورہ میں رہے،پھر مکہ معظمہ منتقل ہوگئے،یزید کی بیعت نہ کی، یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کراکے منجنیق سے وہاں پتھر برسائے،آپ حطیم شریف میں نفل پڑھ رہے تھے کہ عین نماز میں ایک پتھر آپ کے لگا شہید ہوگئے،عین حطیم کعبہ میں یہ واقعہ شروع ربیع الاول ۶۴ ∞ چونسٹھ ہجری میں ہوا،آپ سے بہت سے لوگوں نے احادیث روایت کیں۔
۳؎فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین ہوا یہ غزوہ ا سی قبیلہ ہوازن پر ہوا تھا،اس میں بہت قیدی اور بہت مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا، پھر یہ ہی لوگ مسلمان ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے درخواست کی سرکار نے ان پررحم خسروانہ فرمایا۔
۴؎یعنی اس قبیلہ نے درخواست پیش کی کہ ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں اور ہمارا مال جو غنیمت بن چکا ہے ہم کو واپس کردیا جائے قیدی سات ہزار تھے مال کا تو حساب ہی نہ تھا۔(مرقات)
۵؎جب قبیلہ ہوازن کو یقین ہوگیا کہ حضور انور دونوں چیزیں واپس نہ فرمائیں گے تو بولے کہ اچھا ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں ہم مال نہیں چاہتے کیونکہ ان کے غلام بننے میں ہماری ذلت ہے۔
۶؎یہ ہے رب تعالٰی کی بے نیازی،کہ جو کل تک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے وہ آج مسلمان ہوکر بھائی بن گئے اور یہ ہے حضور کی کرم نوازی کہ دشمن کو گلے لگالیتے ہیں۔
۷؎یعنی سارے ہوازنی قیدی بغیر فدیہ لیے ہوئے چھوڑ دوں۔
۸؎ہوازن کے قیدی مسلمان غازیوں میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔اب حضور انور کی رائے یہ ہوئی کہ وہ تمام قیدی آنے والے ہوازن کو واپس کردیئے جائیں بغیر فدیہ چھوڑ دیئے جائیں لہذا ان غازیوں سے فرمایا کہ ہر شخص اپنے حصہ کا قیدی واپس کردے جو معاوضہ واپس کرنا چاہے بطیب خاطرتو وہ ایسا ہی کرے۔
۹؎یعنی جو غازی بلا معاوضہ واپس نہ کرنا چاہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب جس جہاد میں بھی کفار قیدی ہاتھ آئیں گے اسے اس کے عوض غلام دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ قیدی واپس کرنے کا حکم سرکاری تھا جس پر عمل کرنا ہر غازی پر واجب تھا اور معاوضہ لینے نہ لینے کا اختیار تھا۔خیال رہے کہیفئبنا ہےفئیسے،فئ وہ مال ہے جو کفار سے بغیر جنگ حاصل کیا جائے،جزیہ و خراج بھی اس میں داخل ہے مگر یہاں فئ سے مراد غنیمت ہے۔(مرقات و اشعہ)غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے بحالت جنگ لڑ کر حاصل کیا جائے۔
۱۰؎یعنی تمام صحابہ نے یک زبان ہوکر عرض کیا کہ ہم بغیر معاوضہ بخوشی اپنا اپنا قیدی واپس کرتے ہیں معاوضہ کے طلبگار نہیں۔
۱۱؎یعنی ہم تم میں سے ہر شخص سے علیٰحدہ علیٰحدہ نہیں پوچھ سکتے جماعتی حیثیت سے یہ سوال و جواب ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص معاوضہ ہی چاہتا ہو مگر اب مجلس میں خاموش رہا ہو یا بولا ہو تو ان آوازوں میں اس کی آواز دب گئی ہو اس لیے یہ جماعتی اجازت کافی نہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کے دل کے ارادے سے خبردار ہیں مگر تعلیم امت کے لیے یہ احتیاط فرما رہے ہیں تاکہ بادشاہ یا حاکم یا اور کوئی کسی کا مملوک مال بغیر اس کی صریحی اجازت کے کبھی نہ لے ورنہ حضور تو مسلمانوں کی جان و مال کے مالک ہیں،ہم سب حضور کے لونڈی غلام ہیں ہمارا مال جسے چاہیں بغیر پوچھے دے دیں۔(دیکھو ہماری کتاب سلطنت مصطفی) یہاں تعلیم مقصود ہے۔
۱۲؎عرفاءجمع ہےعریفکی،عریفکے معنی ہیں رئیس نقیب سردار یعنی ہر قبیلہ کا ہر شخص اپنے سردار سے اپنا ارادہ بیان کرے وہ سردار ہم تک پیغام پہنچادے۔
۱۳؎یعنی ایسا ہی ہوا کہ ہر ہر قبیلہ کا سردار اپنے قبیلہ کے ہر غازی صحابی سے ملا،ہر ایک کا ارادہ علیٰحدہ علیٰحدہ معلوم کیا پھر حضور انور کی خدمت میں پیش کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3968