Main Icon

باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3962

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحّٰى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلٰى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهٗ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ، وَفِيْنَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ مِنَ الظَّهْرِ، وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتٰى جَمَلَهٗ، فَأَثَارَهٗ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ، فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حتّٰى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهٗ، ثُمَّ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ، ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقَودُهٗ وَعَلَيْهِ رَحْلُهٗ وَسِلَاحُهٗ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقَالَ: "مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ " قَالُوْا: اِبْنُ الأَكْوَعِ فَقَالَ: "لَهٗ سَلَبُهٗ أَجْمَعُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هوازن، فبينا نحن نتضحى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء رجل على جمل أحمر فأناخه، وجعل ينظر، وفينا ضعفة ورقة من الظهر، وبعضنا مشاة، إذ خرج يشتد فأتى جمله، فأثاره فاشتد به الجمل، فخرجت أشتد حتى أخذت بخطام الجمل فأنخته، ثم اخترطت سيفي فضربت رأس الرجل، ثم جئت بالجمل أقوده وعليه رحله وسلاحه، فاستقبلني رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس فقال: "من قتل الرجل؟ " قالوا: ابن الأكوع فقال: "له سلبه أجمع". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا ۱؎تو ہم رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کررہے تھے ۲؎کہ اچانک ایک شخص سرخ اونٹ پرآیا اسے بٹھادیا اور لگادیکھنے اور ہم میں کمزور لوگ تھے اور سواریوں میں کمی تھی۳؎اور ہمارے بعض پیدل تھے کہ وہ دوڑتا ہوا نکلا۴؎اپنے اونٹ کے پاس آیا اسے اٹھایا اسے لے کر اونٹ دوڑ گیا تو میں دوڑتا ہوا نکلا حتی کہ میں نے مہار پکڑلی میں نے اسے بٹھالیا پھر میں نے اپنی تلوار سونت لی تو اس کے سر پر مار دی ۵؎پھر میں اونٹ ہانک لایا جس پر اس کا سامان اس کے ہتھیار تھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور لوگ مجھے سامنے سے ملے تو فرمایا کہ اس شخص کو کس نے قتل کیا لوگوں نے کہا ابن اکوع نے حضور نے فرمایا اس کا سارا سامان انہیں کا ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس غزوہ کا نام غزوہ حنین ہے جو فتح مکہ کے بعد ۶ شوال ہفتہ ہی کے دن ہوا۔حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔ہوازن اس قبیلہ کفار کا نام ہے جو وہاں مسلمانوں کے مقابل تھے پھر یہ مسلمان ہوگئے۔
۲
؎نتضحی ضحیسے بمعنی چاشت اس لیے چاشت کے وقت کی نماز کو صلوۃ الضحٰی کہتے ہیں۔بعض شارحین نے یہاں اس کے یہ ہی معنی کیے ہیں۔یعنی ہم نماز چاشت پڑھ رہے تھے مگر قوی یہ ہی ہے کہ یہاں ناشتہ کا کھانا مراد ہے یعنی ہم لشکر والے حضور انور کے ساتھ ناشتہ میں مشغول تھے۔
۳
؎ضعفۃض کے فتحہ عین کے بھی فتحہ سے جمع ہے،ضعیفبمعنی کمزوری اوررقتکے معنی ہوتے ہیں پتلا پن،غلظ کا مقابل یہاں تنگی وکمی مراد ہے یعنی ہمارے پاس اس زمانہ میں سامان جنگ حتی کہ سواریوں کی بھی کمی تھی اور ہم لوگ جسمانی کمزور بھی تھے۔
۴
؎تاکہ ہماری اس کمزوری اور بے سامانی کی خبر ہمارے حریف کافروں کو دے کر انہیں ہمارے مقابلہ پر دلیر کرے یعنی میں تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا حتی کہ اس کے اونٹ تک پہنچا آگے ہوکر اس کی مہار پکڑ کر روک لیااﷲ اکبریہ ہے اسلامی ہمت،آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ میرے مہار کو پکڑتے ہوئے مجھے قتل کرکے بھاگ جائے گا۔جو مرد میدان ہتھیلی پر سر رکھ لے وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
۵
؎کہ وہ مرگیا،یہ تائید غیبی تھی کہ اس دوران میں اس نے آپ کو شہید نہ کردیا،اس کی ہمت ہی نہ پڑیمن کان ﷲ کان اﷲ لہ۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ جاسوس کا قتل جائز ہے اور جاسوس کے ثبوت کے لیے صرف علامات ہی کافی ہیں،باقاعدہ گواہیوں کی ضرورت نہیں۔آج بھی جس کے پاس خبر رسانی کے آلات پائے جاتے ہیں اسے جاسوس مان لیا جاتا ہے۔
۶
؎یعنی صرف اس کا لباس ہی نہیں بلکہ ہتھیار،لباس،زیور،سواری،کاٹھی وغیرہ جو کچھ اس مقتول کے پاس تھا سب ان کو دے دو اور اس میں خمس بھی نہ لیا جائےیہ ہی ہمارا مذہب ہے کہ قاتل غازی کو کافر مقتول کا سارا مال دیا جائے اس میں خمس نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3962