- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3969
باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3969
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حَلِيفًا لِبَنِي عُقَيْلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيلٍ، فَأَوْثَقُوْهُ فَطَرَحُوْهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهٖ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاداهُ: يَا مُحَمَّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فِيمَ أُخِذْتُ؟ قَالَ: "بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ" فتَرَكَهٗ وَمَضَى، فَنَاداهُ: يَا مُحَمَّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فَرَحِمَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَقَالَ: "مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. فَقَالَ: "لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". قَالَ: فَفَدَاهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَينِ أسرَتْهُمَا ثَقِيفٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن عمران بن حصين قال: كانت ثقيف حليفا لبني عقيل، فأسرت ثقيف رجلين من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأسر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من بني عقيل، فأوثقوه فطرحوه في الحرة، فمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فناداه: يا محمد! يا محمد! فيم أخذت؟ قال: "بجريرة حلفائكم ثقيف" فتركه ومضى، فناداه: يا محمد! يا محمد! فرحمه رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجع فقال: "ما شأنك؟ " قال: إني مسلم. فقال: "لو قلتها وأنت تملك أمرك أفلحت كل الفلاح". قال: ففداه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالرجلين اللذين أسرتهما ثقيف. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ثقیف بنی عقیل کے حلیف تھے ۱؎تو ثقیف نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے دو کو قید کرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے بنی عقیل میں سے ایک شخص کو قید کرلیا ۲؎تو اسے باندھ دیا پھر اسے مقام حرہ میں ڈال دیا ۳؎پھر اس پر رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم گزرے ۴؎اس نے حضور کو پکارا اے محمد اے محمد میں کس جرم میں پکڑا گیا،فرمایا اپنی قوم کے حلیف ثقیف کے جرم میں ۵؎پھر حضور نے اسے یونہی چھوڑا اور چل دیئے اس نے پھر کہا یامحمد اس پر رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے رحم فرمایا لوٹ آئے ۶؎فرمایا تیرا کیا حال ہے وہ بولا میں مسلمان ہوں۷؎فرمایا اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا ۸؎تو پوری کامیابی پاتا ۹؎راوی فرماتے ہیں پھر اسے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ان دو شخصوں کے فدیہ میں دے دیا جنہیں ثقیف نے گرفتار کرلیا تھا۱۰؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اسلام سے پہلے بنی ثقیف جو ہوازن کا ایک خاندان ہے بنی عقیل کے حلیف تھے۔حلیف وہ کہلاتا تھا جس کا کسی سے معاہدہ ہوجائے کہ ہم دونوں ہر نیک و بد،خیروشر میں ایک دوسرے کے ساتھی رہیں گے۔اس معاہدہ کو حلف کہتے تھے،معاہدہ کرنے والوں کو حلیف۔اسلام نے گزشتہ معاہدوں کو کچھ ترمیم کے ساتھ باقی رکھا کہ اچھی بات پر معاہدہ ٹھیک ہے بری بات پر معاہدہ غلط۔آئندہ کے لیے حلیف سے منع فرمادیا کہ حضور نے ارشاد فرمایالا حلف فی الاسلامکیونکہ اسلام کا معاہدہ ہی کافی ہے۔
۲؎اس زمانہ کے قاعدہ کے مطابق ایک حلیف دوسرے حلیف کے جرم میں پکڑا جاتا تھا،ثقیف نے مسلمان پکڑ لیے تو اس کے عوض ثقیف کے حلیف بنی عقیل کا ایک آدمی پکڑ لیا تاکہ بنی ثقیف اپنے حلیف کو چھوڑنے کے لیے ہمارے مسلمانوں کو چھوڑ دیں۔
۳؎حرہ بیرون مدینہ میدان کا نام ہے جو پتھریلا علاقہ ہے وہاں سایہ وغیرہ نہیں سیاہ پتھر ہیں وہاں ڈالا تاکہ یہ قیدی اپنی تکلیف اپنی قوم کو پہنچائے،وہ لوگ جلد از جلد اسے چھوڑانے کے لیے مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیں۔اس زمانہ میں بھی منافقین مدینہ کفار کے جاسوس تھے جو یہاں کے حالات کفار کو بتاتے رہتے تھے۔
۴؎تاکہ اس کا دکھ درد دیکھیں اور سنیں اس کے کھانا پانی کا انتظام فرمادیں اس لیے خود بہ نفس نفیس شہر مدینہ سے حرہ تشریف لے گئے۔
۵؎خیال رہے کہ قبیلہ بنی ثقیف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا کہ ہم دونوں فریق صلح سے رہیں گے،ثقیف نے حضور سے بدعہدی کی،بنی عقیل کا فرض تھا کہ وہ اپنے ان حلیفوں کو اس بدعہدی سے منع کرتے مگر وہ خاموش رہے یہ ان کی طرف سے گویا بدعہدی ہوئی یعنی تو بنی عقیل کا ایک فرد ہے تو بنی ثقیف کا معاہدہ حلیف ہے تیرے حلیفوں نے ہم سے بدعہدی کی تو ان کے جرم میں گرفتار ہوا۔
۶؎ایسے قیدیوں پر کون رحم کرتا ہے مگر حضور رحمۃ اللعالمین ہیں کہ ایسوں پر بھی رحم فرماتے ہیں ایسوں کی بھی سنتے ہیں۔شعر
ایک تم ہو کہ بخش دیتے ہو کون ان جرموں پر سزا نہ کرے
۷؎یا تو پہلے سے ہی مسلمان ہوں یا اب حضور کے دیدار کی برکت سے مسلمان ہوگیا ہوں۔(مرقات)مگر دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ ظاہر ہے۔
۸؎یعنی قید ہونے گرفتار کیے جانے سے پہلے کہہ دیتا تو پکڑا نہ جاتا۔خیال رہے کہ اگر کافری قیدی کہے کہ میں تو گرفتاری سے پہلے ہی مسلمان تھا تو اس کی بات نہ مانی جائے گی جب تک اپنے دعویٰ پر شرعی گواہی قائم نہ کرے اور اگر قید ہونے کے بعد مسلمان ہوجائے تو اسے قتل نہ کیا جائے گا مگر غلام بنالیا جائے۔اس وقت کا اسلام قتل سے بچالے گا غلامیت سے نہ بچاسکے گا اور اگر قیدی قید ہوچکنے کے بعد جزیہ قبول کرلے اس کے قتل کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے۔(مرقات)
۹؎اس طرح کہ دنیا میں تو قیدوغلامیت کی ذلت سے بچ جاتا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے،اب اس وقت مسلمان ہونے سے تو آگ سے بچ گیا مگر غلامیت کی قید سے نہ بچ سکا۔یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا یہ اسلام قبول نہ کیا کیونکہ حضورکو اس کے منافق ہونے کا پتہ تھا کبھی حضور حقیقت پرحکم جاری فرماتے تھے۔مدعی اسلام کے قتل کا حکم دیا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ کافر ہوکر مرا۔ (اشعہ)
۱۰؎یعنی کچھ عرصہ کے بعد حضور انور نے اسے کفار کے حوالہ کردیا اور اس کے عوض اپنے مسلمان قیدی کفار سے چھڑا لیے۔اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص قیدی ہوچکنے کے بعد مسلمان ہو اس کو قدیمی مسلمان کو چھوڑانے کے لیے فدیہ دیا جاسکتا ہے۔ہدایہ میں ہے کہ ایسے قیدی کو فدیہ میں دینا جائز نہیں جو بحالت قید مسلمان ہوچکا ہو۔اگر ہمارا اور کفار کا معاہدہ اس قسم کا ہوچکا ہو کہ بعد صلح فریقین اپنے قیدیوں کو چھوڑدیں تو ایسے مسلمان قیدیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔(مرقات)مگر ایسے عورتوں بچوں کو فدیہ میں بھی نہ دیا جائے گا جو قید ہوکر مسلمان ہوگئے ہوں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور اس جگہ مرقات میں دیکھو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3969