Main Icon

باب: قیدیوں کا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3972

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟قَالَ: "النَّارُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن مسعود: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد قتل عقبة بن أبي معيط قال: من للصبية؟قال: "النار". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عقبہ ابن ابی معیط کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ بولا بچوں کا کون ہے ۱؎فرمایا آگ ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صبیۃص کے کسرہ ب کے سکون سے،جمع ہےصبیٌکے معنی چھوٹے بچے۔یعنی آپ مجھے تو قتل کیے دیتے ہیں میرے پیچھے میرے چھوٹے بچے کون پالے پرورش کرے گا۔
۲
؎یعنی تیرے لیے آگ ہے اپنی فکرکر بچوں کی فکر کیوں کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تیرے بچوں کو آگ پالے گی۔یہ فرمان اظہار غضب کے لیے ہے اس معنی کی بنا پر یہ غیبی خبر ہے کہ تیرے بچے بھی تیری طرح دوزخی ہیں وہ بھی تیری طرح کافر ہی مریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3972