Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2799

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيدِ بْنِ رفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقٰى وَبَرَّ وَصَدَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن عبيد بن رفاعة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «التجار يحشرون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى وبر وصدق» . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید ابن رفاعہ سے وہ اپنے والد سے راوی وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قیامت کے دن بیوپاری بدکار اٹھائیں جائیں گے بجز ان کے جو پرہیزگاری بھلائی کریں سچ بولیں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎پرہیزگاری سے مراد ہے گناہ کبیرہ سے خصوصًا اور گناہ کبیرہ کی عادت سے عمومًا بچتے رہنا۔نیکی سے مراد ہے اپنے کاروبار کو دھوکا خیانت سے محفوظ رکھنا،سچ سے مراد سودے کے متعلق صاف بات کرنا اگر عیب دار ہو تو اس کو بے عیب ثابت کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ (مرقات)مطلب یہ ہے کہ قیامت میں سارے تاجر فاسق وفاجر ہوں گے سواء ان کے جن میں یہ تین صفات ہوں،پرہیزگاری ،بھلائی، سچائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2799