Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2793

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلَفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهٗ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق».رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بیوپار میں زیادہ قسم کھانے سے بچو ۱؎کہ قسم مال تو بکوادیتی ہے پھر برکت مٹا دیتی ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں زیادہ قسم سے ممانعت ہے تھوڑی قسموں کی اجازت ہے کہ تجارت میں کبھی قسم کھانی ہی پڑ جاتی ہے،بعض نے فرمایا کہ جھوٹی قسموں سے ممانعت ہے سچی قسم کی اجازت ہے مگر ترجیح اسے ہے کہ مطلقًا قسم سے ممانعت ہے،کثرۃکا لفظ اتفاقی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعٰفًا مُّضٰعَفَۃ"۔مقصد یہ ہے کہ خرید و فروخت میں سچی قسمیں بھی نہ کھاؤ کہ کبھی جھوٹی قسم بھی منہ سے نکل جائے گی نزلہ سے بچو تاکہ بخار سے محفوظ رہو۔
۲
؎یُنَفِّقُفکے شد اور کسرہ سے ہےتنفیقکا مضارع،انفاقسے نہیں ہے،تنفیقبمعنی ترویج ہے یعنی قسم سے لوگ دھوکا کھا کر خرید لیتے ہیں اور مال چل پڑتا ہے مگر آئندہ کو جھوٹے تاجر کا اعتبار نہیں رہتا،تجارت اعتبار پر چلتی ہے۔افسوس کہ یہ سبق مسلمان تاجر بھول گئے،کفار خصوصًا انگریزوں نے یاد کرلیا،آج ان کی راستبازی ضرب المثل بن چکی ہے اسی لیے وہ تجارت میں سب سے آگے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2793