Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2795

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهٗ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:«ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم» . قال أبو ذر: خابوا وخسروا من هم يا رسول الله؟ قال: «المسبل والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا تین شخص وہ ہیں جن سےاللّٰهتعالٰی قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا نہ نظر رحمت اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ۱؎اور ان کے لیے دردناک عذاب ہیں ابوذر نے عرض کیا وہ تو ٹوٹے اور خسارہ ہی پڑ گئے یارسولاللّٰهوہ کون ہیں فرمایا تہبند لٹکانے والا،احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے مال بیچنے والا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کلام سے مراد محبت کا کلام ہے،دیکھنے سے مراد کرم کا دیکھنا ہے اور پاک فرمانے سے مراد گناہ بخشنا ہے یعنی دوسرے مسلمانوں پر یہ تینوں کرم ہوں گے مگر ان تین قسم کے لوگ ان تینوں عنایتوں سے محروم رہیں گے لہذا ان سے بچتے رہو۔
۲
؎یعنی جو فیشن کے لیے ٹخنوں سے نیچا پاجامہ تہبند استعمال کریں جیسے آجکل جاہل چودھریوں کا طریقہ ہےاور جو کسی کو کچھ صدقہ و خیرات دے کر ان کو طعنے دیں،احسان جتائیں،لوگوں میں انہیں بدنام کردیں کہ فلاں آدمی ہمارا دستِ نگر رہ چکا ہے اور جو جھوٹی قسم کھا کر دھوکا دے کر مال فروخت کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2795