Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2798

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن قيس بن أبي غرزة قال: كنا نسمى في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم السماسرة فمر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو أحسن منه فقال: «يا معشر التجار إن البيع يحضره اللغو والحلف فشوبوه بالصدقة» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی غرزہ سے فرماتے ہیں کہ زمانہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ و سلم میں ہم کو سوداگر کہا جاتا تھا ۱؎ہم پر رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم گزرے اس سے بہتر ہمارا نام رکھا گیا ۲؎فرمایا اے تاجروں کے گروہ تجارت میں بے ہودگی اور جھوٹی قسمیں آجاتی ہیں لہذا اسے خیرات سے مخلوط کردو۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎سماسرہسمسارکی جمع ہے،سمساردلال کو کہتے ہیں جو تاجر اور خریدار کے درمیان سودا کراتا ہے یعنی سوداگر مگر پھر مطلقًا تاجر کوسمسارکہنے لگے جیسے ہماری اردو میں سوداگر دلال کا نام ہے یعنی سودا کرانے والا مگر اب تاجر کو سودا گر کہتے ہیں۔
۲
؎یعنیسمسارسے تاجر نام بہتر ہے کیونکہ قرآن شریف میں اس مشغلہ کو تجارت فرمایا گیا ہے،نیز رب نے اپنے کو مسلمانوں کے جان و مال کا خریدار فرمایا،نیز تجارت کے معنے ہیں نفعے پر مال الٹ پلٹ کرنے والا سمسار ظالم چونگی والوں کو بھی کہتے ہیں جو ظلم و رشوت میں مشہور ہیں۔
۳
؎مقصد یہ ہے کہ تجارت میں کتنی ہی احتیاط کی جائے مگر پھر بھی کچھ لغو کچھ جھوٹ جھوٹی قسم منہ سے نکل ہی جاتی ہے اس لیے صدقہ و خیرات ضرور کرتے رہو کہ صدقے سے غضب الٰہی کی آگ بجھ جاتی ہے۔عمومًا تاجر لوگ فقراء کو پیسہ پیسہ دیتے رہتے ہیں،خصوصًا جمعرات کو اس عمل کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے ویسے بھی صدقہ اعلٰی عبادت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2798