Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2791

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهٗ فَقيل لَهٗ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ. قِيلَ لَهٗ انْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن رجلا كان فيمن قبلكم أتاه الملك ليقبض روحه فقيل له: هل عملت من خير؟ قال: ما أعلم. قيل له انظر قال: ما أعلم شيئا غير أني كنت أبايع الناس في الدنيا وأجازيهم فأنظر الموسر وأتجاوز عن المعسر فأدخله الله الجنة "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا ۱؎کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا اس سے کہا گیا غور تو کر ۲؎بولا اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو معافی ۳؎چنانچہاللّٰهنے اسے جنت میں داخل فرمادیا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ سوال اس سے جانکنی کے وقت ہوا یا قبر میں اور سوال کرنے والے یا تو وہ فرشتے تھے جو جان نکالنے آئے تھے یا منکر نکیر جو حساب قبر لیتے ہیں اگرچہ قبر میں صرف ایمان کا حساب ہے اعمال کا حساب تو قیامت میں ہوگا مگر یہ اس شخص کی خصوصیات سے ہے کہ اس سے قبر ہی میں اعمال کا حساب بھی ہوگیا،بعض شارحین نے فرمایا قیل بمعنی یقال ہے اور یہ واقعہ سوال و جواب کا قیامت میں ہوگامگر پہلی توجیہ قوی ہے۔ (لمعات،اشعہ،مرقات)
۲
؎معلوم ہوا کہ مرتے وقت اور قبر میں حشر میں انسان کو اپنے برے بھلے اعمال یاد ہوں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ "۔۳؎یعنی میرے معاملات بہت درست تھے ان میں اخلاق کو دخل تھا اگر امیر کو ادائے قرض میں دیر لگتی تھی تو میں صبر کرتاتھا اس پر جلدی مانگ کر سختی نہ کرتا تھااور اگر میرا مقروض قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہوتا تو اسے بالکل معاف کردیتا تھا تاکہ وہ دنیا و آخرت میں پھنسا نہ رہے۔
۴
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جو بندوں پر مہربانی کرتا ہے رب تعالٰی اس پر کرم فرماتا ہےکسی کو پھانسنے کی کوشش نہ کرو بلکہ پھنسے کو نکالنے کی کوشش کرو۔دوسرے یہ کہ معمولی نیکی کو بھی معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دو کبھی ایک قطرہ جان بچالیتا ہے۔ ممکن ہے کہ چھوٹا عمل بخشش کا ذریعہ بن جائے اور کوئی معمولی گناہ چھوٹا سمجھ کر کر نہ لو کبھی چھوٹی چنگاری سارا گھر جلا ڈالتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2791