Main Icon

باب: معاملہ میں نرمی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2794

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الحلف منفقة للسلعة، ممحقة للبركة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قسم سامان بکوانے والی ہے برکت مٹانے والی ہے ۱؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ممکن ہے کہ یہاںالحلفمیں الف لام عہدی ہو اور قسم سے مراد جھوٹی قسم ہو،برکت سے مراد آئندہ کاروبار بند ہو جانا ہو یا کیے ہوئے بیوپار میں گھاٹا پڑ جانا یعنی اگر تم نے کسی کو جھوٹی قسم کھا کر دھوکے سے خراب مال دے دیا وہ ایک بار تو دھوکہ کھا جائے گا مگر دوبارہ نہ آئے گا نہ کسی کو آنے دے گا یا جو رقم تم نے اس سے حاصل کرلی اس میں برکت نہ ہوگی کہ حرام میں بے برکتی ہے،صفائی معاملات سیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2794