Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1981

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: أَهَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهٗ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي البختري قال: خرجنا للعمرة فلما نزلنا ببطن نخلة تراءينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، فلقينا ابن عباس فقلنا: إنا رأينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، فقال: أي ليلة رأيتموه؟ قلنا: ليلة كذا وكذا. فقال:إن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- مده للرؤية فهو لليلة رأيتموه
وفي رواية عنه: قال: أهللنا رمضان ونحن بذات عرق، فأرسلنا رجلا إلى ابن عباس يسأله، فقال ابن عباس: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إن الله تعالى قد أمده لرؤيته، فإن أغمي عليكم فأكملوا العدة". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرتابوالبختریسے ۱؎فرماتے ہیں ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے جب بطن نخلہ میں اترے ۲؎تو ہم چاند دیکھنے جمع ہوئے ۳؎بعض قوم نے کہا کہ یہ تیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے ۴؎پھر حضرت ابن عباس سے ملے ہم نے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے تو بعض نے کہاہےتیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے تو آپ نے فرمایا تم نے کس رات دیکھا ۵؎ہم نے عرض کیا فلاں رات ۶؎تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی مدت دیکھنے تک کی رکھی لہذا وہ اسی رات کا ہے جب تم نے دیکھا ۷؎انہی سے ایک روایت ہے کہ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا جب ہم ذات عرق میں تھے ۸؎تو ہم نے حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص مسئلہ پوچھنے بھیجا حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے چاند کی مدت دیکھنے تک رکھی تو اگر تم پر مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ان کا نام سعید ابن فیروز ہے،تابعین میں سے ہیں،کوفی ہیں،آدمی ٹھیک تھے،مائل بہ رفض تھے،ان کی سمعی حدیثیں مقبول ہیں دوسری نہیں۔(مرقات وغیرہ)
۲
؎بطن نخلہ مکہ معظمہ سے مشرق کی جانب طائف کے راستہ پر واقع ہے مشہور منزل ہے،اب اسےمضیقکہتے ہیں۔
۳
؎کہ میدان میں جمع ہوکر ایک دوسرے کو دکھانے لگے کہ وہ ہے چاند۔خیال رہے کہ چاند کی طرف اشارہ کرنا دکھانے کے لیے جائز ہے بلاضرورت مکروہ کہ فعل کفار ہے۔(مرقات وشامی)
۴
؎یعنی چاند اونچا اور بڑا تھا اس لیے بعض نے کہا دوسری شب کا ہے،بعض نے کہا تیسری شب کا ہے یعنی کسی نے کہا کل ہوچکا ہے،کسی نے کہا پرسوں ہوچکا ہے یہ چاند رمضان کا تھا یہ حضرات شعبان کے آخر میں عمرہ کرنے گئے تھے۔
۵
؎یعنی مجھے اپنا اندازہ نہ بتاؤ اپنی رؤیت کی خبردو کہ تم میں سے کس نے اس سے پہلے کب دیکھا تھا،کل یا پرسوں۔
۶
؎یعنی حضرت ابن عباس کے فرمانے پر اب ہم نے دیکھنے کی رات بتائی کہ مثلًا کل دیکھا تھا۔۷؎یعنی چاند میں چھوٹا بڑا ہونے یا اونچا ہونے کا اعتبار نہیں دیکھنے کا اعتبار ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت و نصیحت پکڑیں کہ صرف جنتری یا اخبار میں لکھی ہوئی تاریخ دیکھ کر یا چاند کی بڑائی دیکھ کر جھگڑتے ہیں۔
۸
؎ذات عرق عراق والوں کا میقات ہے جہاں یہ لوگ احرام باندھتے ہیں طائف کے راستہ پر واقع ہے، اب اس کا نام سہل ہے،لاری بسوں کا مشہور اڈہ ہے،فقیر وہاں سے گزرا ہے۔عراق سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے بھی اور مکہ معظمہ سے طائف آتے جاتے بھی بڑے عمرہ کا احرام یہاں سے ہی باندھا جاتا ہے،یہاں کا پانی بہت لذیذ اور ہاضم ہے۔
۹
؎حضرت عبد اللہ ابن عباس کا قیام طائف میں تھا،وہاں ہی آپ کا مزار پرانوار ہے،فقیرنے زیارت کی ہے۔غالبًا ان حضرات نے طائف پہنچ کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا ہوگا۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ شعبان کی مدت رمضان کا چاند دیکھنے تک ہے حساب وغیرہ کا اعتبار نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاںلیلۃًفرمانے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ اگر دن میں زوال کے بعد رمضان یا عید کا چاند نظر آجائے مگر بعدغروب آفتاب نظر نہ آئے تو اس دیکھنے کا کوئی اعتبار نہیں آفتاب ڈوبنے کے بعد رؤیت کا اعتبار ہے۔و الله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1981