Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1979

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن ابن عمر قال: تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- أني رأيته، فصام وأمر الناس بصيامه. رواه أبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو خبردی کہ میں نے چاند دیکھ لیا حضور نے خود روزہ رکھا اور لوگوں کو روزے کا حکم دیا ۱؎(ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انتیسویں شعبان کو مطلع صاف نہ تھا،لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی کسی کو نظر نہ آیا،صرف میری خبر پر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں رمضان کے چاند میں جب کہ مطلع صاف نہ ہو دو شخصوں کی گواہی ضروری ہے مگر یہ احادیث ان کے اس فرمان کے خلاف ہیں اس لیے اکثر شوافع اس حدیث پر فتویٰ دے کر صرف ایک مسلمان کی خبر معتبر مانتے ہیں،ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں صرف ایک عادل کی خبر کافی ہے اور اگر مطلع صاف ہو تو بڑی جماعت کی گواہی سے چاند کا ثبوت ہوگا عید کے چاند میں اگر مطلع صاف نہ ہو تو دو کی گواہی ضروری ہے اور اگر صاف ہو تو بڑی جماعت کی گواہی درکار ہے کیونکہ رمضان کے چاند پر صرف شرعی احکام مرتب ہوتے ہیں جن میں ایک کی خبر کافی ہوگی ہے مگر عید کے چاند سے بندوں کے حقوق وابستہ ہیں لہذا یہاں دو کی گواہی ضروری ہوئی، بڑی جماعت میں اختلاف ہےامام ابویوسف کے ہاں پچا س آدمی بڑی جماعت ہیں،بعض کے ہاں تعداد مقرر نہیں،اتنے لوگوں کی گواہی ضروری ہے جن سے چاند کا گمان غالب ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1979