Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1977

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: "مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن عمار بن ياسر قال: "من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم -صلی اللہ عليه وسلم-". رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں جو شک کے دن روزہ رکھے اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس نافرمانی کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ سارے شعبان میں کبھی روزے نہ رکھے صرف شک کے دن بلاوجہ نفلی روزہ رکھے۔دوسرے یہ کہ شک کے دن رمضان کی نیت سے فرضی روزہ رکھے۔تیسرے یہ کہ اس روزہ میں متردد نیت کرے کہ آج اگر رمضان کی پہلی ہے تو یہ روزہ فرضی ہے اور اگر شعبان کی تیسویں ہے تو یہ روزہ نفلی ہے یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں،دوسری صورت زیادہ بری کہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث اباحت کے خلاف نہیں۔مرقات میں ہے کہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ شوال کے چھ روزوں کا رمضان سے ملانا عوام کے لیے ناپسندکرتے تھے۔
۲
؎ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح فرمایا اور بخاری نے اسے تعلیقًا روایت کیا،حاکم نے اسے بشرط شیخین بتایا،طبرانی نے حضرت ابن عباس سے موقوفًا روایت کیا۔غرض کہ یہ حدیث صحیح ہے جن لوگوں نے اسے موضوع بتایا انہوں نے سخت غلطی کی۔خیال رہے کہ ترمذی وغیرہ میں اصل حدیث یوں ہے کہ حضرت صلح ابن زفر فرماتے ہیں کہ ہم شک کے دن حضرت عمار ابن یاسر کے پاس تھے،آپ کی خدمت میں بھنی بکری لائی گئی بعض لوگ پیچھے ہٹ گئےتب آپ نے فرمایا جو اس دن روزہ رکھے اس نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔اس قسم کی موقوف حدیثیں مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1977