Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1972

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ: رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "شهرا عيد لا ينقصان: رمضان وذو الحجة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو مہینہ ۱؎کبھی کم نہیں ہوتے رمضان اور بقرعید ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎رمضان اور بقر عید چونکہ رمضان عید الفطر کا پیش خیمہ ہے یا اس کی ہر ساعت خوشی و مسرت کی ہے اس لیے اسے بھی ماہ عید کہہ دیا گیایا تغلیبًا تنبہ کردیا گیا جیسے چاند و سورج کو قمرین کہہ دیتے ہیں اور حضرت ابوبکر و عمر کو عمرین۔
۴
؎بعض نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ ایک سال میں ماہ رمضان و بقر عید دونوں انتیس کے نہیں ہوتے یا دونوں تیس کے ہوں گے یا ایک انتیس کا دوسرا تیس کا مگر یہ غلط ہے مشاہدہ کے خلاف ہے۔بعض نے فرمایا کہ اکثریہ قاعدہ ہے مگر یہ بھی غلط ہے۔مرقات نے فرمایا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کل نو رمضان کے روزے رکھے جن میں دو تیسے تھے باقی سات انتیسے اب بھی بہت دفعہ رمضان و بقرعید دونوں انتیسے ہوجاتے ہیں لہذا یہاں کمی سے مراد ثواب و درجہ کی کمی ہے نہ کہ تعداد ایام کی کمی یعنی رمضان و بقر عید انتیس کے ہوں یا تیس کے ثواب عمل برابر ہی ملے گا یعنی انتیس کا ثواب تیس کے برابر یا بقر عید کے پہلے عشرہ کی نیکیوں کا ثواب رمضان کے پہلے عشرہ کی نیکیوں کے برابر ہے نہ یہ کم نہ وہ۔و الله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1972