Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1971

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ. ثُمَّ قَالَ: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا". يَعْنِي تَمَامَ الثَّلَاثِينَ، يَعْنِي مَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ، وَمرَّة ثَلَاثِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب، الشهر هكذا وهكذا وهكذا" وعقد الإبهام في الثالثة. ثم قال: "الشهر هكذا وهكذا وهكذا". يعني تمام الثلاثين، يعني مرة تسعا وعشرين، ومرة ثلاثين. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگ بے پڑھی جماعت ہیں نہ لکھیں نہ حساب لگائیں ۱؎مہینہ یا تو اتنا اتنا اور اتنا ہے تیسری بار میں انگوٹھا شریف بند کرلیا پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا اتنا اور اتنا یعنی پورے تیس دن کا یعنی انتیس کا اور کبھی تیس کا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لفظاماُمٌّسے بنا،بمعنی اصل یا ماں اس میں اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔امیکے معنے ہیں ام القرٰے یعنی مکہ یا حجاز والا یا بے پڑھا ہوا شخص کہ جیسے ماں کے شکم سے پیدا ہو ویسے ہی رہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے اس کی نفیس تفسیریں ہماری کتاب "شان حبیب الرحمن"میں ملاحظہ فرمائیے یعنی ہم حجازی جماعت عمومًا حساب کتاب نہیں کیا کرتے یا عام صحابہ بے پڑھے ہیں حساب نہیں لگاتے مگر قیامت تک سارے مسلمان انہیں بے پڑھوں کے تابع ہیں۔(مرقاۃ)خیال رہے کہامیکے معنے بے پڑھا ہے بے علم نہیں اللہ تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ایسا عالم بنایا کہ جہان بھر کے علماء ان کی شاگردی کریں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنے امی ہیں کہ پیدائشی عالم،عارف،معلم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔شعر
جو فلسفیوں سے حل نہ ہوئے اور نکتہ وروں سے کھل نہ سکے
وہ راز اک امی لقبی نے سمجھا دیئے چند اشاروں میں
اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ چاند میں حساب،جنتری،چاند کی رفتار کا قیاس،چاند کا چھوٹا بڑا ہونا،اٹھائیس تاریخ کو نظر نہ آنا وغیرہ کچھ بھی معتبر نہیں صرف رؤیت کا اعتبار ہے اگر انتیس کو رؤیت نہ ہو تو تیس دن پورے کرنا لازم ہیں۔
۲
؎سبحان الله !ان پاک اشاروں پر ہماری جانیں فدا ہوں دو اشاروں میں ہزار ہا مسائل حل فرمادیئے۔اس اشارہ فرمانے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حدود و قصاص کے سوا باقی اکثر احکام شرعیہ میں اشارہ معتبر ہے۔اگر کوئی اپنی بیوی کو تین انگلیاں دکھا کر کہے تجھے اتنی طلاقیں تو تین طلاقیں واقع ہوں گی،اگر حاکم کے سامنے کوئی دسوں انگلیاں دکھا کر کہے مجھ پر فلاں کے اتنے روپے قرض ہیں تو دس۱۰ روپے کا اقرار ہوگا،اگرکسی عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں تو نکاح ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ اسی طرح گونگا اشاروں سے نکاح،طلاق وغیرہ کرسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1971