Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1980

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ. ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

عن عائشة قالت: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ من غيره. ثم يصوم لرؤية رمضان، فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی اتنی نگرانی فرماتے تھے جتنی دوسرے مہینہ کی نہ کرتے تھے ۱؎پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے پھر اگر مشتبہ ہو جاتا ۲؎تو تیس دن پورے کرتے پھر روزہ رکھتے۔ (ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ شعبان کا چاند بہت اہتمام سے دیکھتے تھے،پھر اس کے دن کی شمار رکھتے تھےکیونکہ اس پر ماہ رمضان کا دارومدار ہے،بقرعید کے چاند پربھی اگرچہ حج وغیرہ کا دارومدار ہے مگر حج ہر سال ہرشخص نہیں کرتا اورنماز بقرعید و قربانی چاند سے دس دن بعد ہوتی ہے جس میں چاند کا پتہ لگ جاتا ہے،رمضان میں چاند ہوتے ہی ہرشخص روزے رکھتا ہے لہذا اس کے چاند کا اہتمام زیادہ چاہیے۔
۲
؎یعنی اگر رمضان کا چاند خود بھی نہ ملاحظہ فرماتے اور نہ شرعی ثبوت پاتے تو تیس دن شعبان کے پورے فرماتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1980